Ruling on Menstruation and Irregular Bleeding in Islam
English Translation:
Method to Read the Issues Mentioned Below
If the reader is a man, he should not read these issues himself. Either explain them through his wife or instruct the reader to review these matters privately.
*Important Instruction*
Note: Young boys and girls should not read these issues.
*Discussion on Haiz and Istihaza*
The normal blood that comes every month from the front passage is called Haiz.
The minimum duration of Haiz is 3 days and 3 nights. The maximum is 10 days and 10 nights.
If someone bleeds for less than 3 nights, it is not Haiz but Istihaza, caused by illness.
If bleeding exceeds 10 days, the extra days are also Istihaza.
If bleeding lasts 3 days but not 3 full nights, like it starts Friday and stops Sunday evening after Maghrib, it is not Haiz but Istihaza. If it is even slightly less than 3 days or 3 nights, it is not Haiz. For example, if bleeding starts at sunrise on Friday and stops just before sunrise on Sunday, it is Istihaza, not Haiz.
During Haiz, any color seen — red, yellow, green, muddy, black — is all Haiz until the pad appears completely white. When it remains as clean as it was placed, then she is pure from Haiz.
Before 9 years and after 55 years, Haiz does not occur. So if a girl under 9 bleeds, it is not Haiz but Istihaza.
If bleeding occurs after 55 years and the blood is bright red or black, it is Haiz. If it is yellow, green, or muddy, it is not Haiz but Istihaza. However, if the woman had yellow, green, or muddy discharge even before this age, then after 55 it is still considered Haiz. If this is against her normal habit, then it is not Haiz but Istihaza. Meaning, if yellow or muddy color did not come before 55 but starts after, it is Istihaza. If it came before too, it is Haiz.
If someone always bled for 3 or 4 days, then one month it bleeds more but not over 10 days, all of it is Haiz.
If it exceeds 10 days, then only the number of days that were her habit are Haiz, the rest is Istihaza.
Example: If someone’s habit is 3 days of Haiz, but one month bleeding lasts 9 or 10 days and nights, all of it is Haiz.
If bleeding exceeds 10 days and nights even by a moment, then only 3 days are Haiz and the remaining days are Istihaza. The prayers of those days must be made up as qaza.
For a woman with no fixed habit — sometimes 4 days, sometimes 7 days, sometimes 10 days — all of it is Haiz.
If such a woman bleeds for more than 10 days and nights, then check how many days she bled in the previous month. Only that many days are Haiz, the rest is Istihaza.
If someone always had 4 days of Haiz, then one month she bled for 5 days, and the next month she bled for 15 days, then from those 15 days, 5 days are Haiz and the remaining 10 days are Istihaza. The first habit is not considered; we understand the habit has changed to 5 days.
If a girl bleeds for the first time and it is less than 10 days, all of it is Haiz. If it is more than 10 days, then full 10 days are Haiz and the extra is Istihaza.
If a girl bleeds for the first time and it does not stop for several months continuously, then from the day it started, 10 days and nights are Haiz, then 20 days and nights are Istihaza, and this continues as 10 days Haiz and 20 days Istihaza.
The minimum gap of purity between two Haiz is 15 days. There is no maximum limit. So if someone’s Haiz stops for any reason, all months without blood are considered purity.
If someone bleeds for 3 days and nights, then remains pure for 15 days, then bleeds again for 3 days and nights, then the first 3 days and the last 3 days are Haiz, and the 15 days in between are purity.
If bleeding occurs for 1 or 2 days, then 15 days of purity, then again 1 or 2 days of bleeding, then the 15 days are purity, and the 1 or 2 days on either side are not Haiz but Istihaza.
If bleeding occurs for a day or several days, then purity lasts less than 15 days, this is not counted. It is considered as if bleeding was continuous from start to end. So as many days as her Haiz habit is, those are Haiz, the rest is Istihaza.
Example: If someone’s habit is Haiz on the 1st, 2nd, or 3rd of each month, then one month bleeding occurs on the 1st, then 14 days purity, then bleeding again for one day, we consider it as 16 days continuous bleeding. So the first 3 days are Haiz and the remaining 13 days are Istihaza.
If her Haiz habit was on the 4th, 5th, or 6th, then those dates are Haiz, and the first 3 days and the last 10 days are Istihaza. If she has no habit and this is her first bleeding, then 10 days are Haiz and 6 days are Istihaza. Any bleeding during pregnancy is not Haiz but Istihaza, no matter how many days.
Blood that comes at childbirth before the child is born is also Istihaza. Until more than half the child has emerged, any blood is called Istihaza.
The discussion on Haiz and Istihaza is now complete, InshaAllah. Tomorrow, InshaAllah, the rulings of Haiz will be written.
All married men should convey these issues to their wives, and all women should read these issues carefully and act upon them. May Allah grant us all correct understanding and the ability to walk on the right path. Ameen
URDU TRANSLATION
حیض اور استحاضہ کے مسائل
*نیچے لکھے گئے مسائل پڑھنے کا طریقہ*
اگر پڑھنے والا مرد ہو تو ان مسائل کو خود نہ پڑھے۔ یا تو اپنی بیوی کے ذریعے سمجھائے یا پڑھنے والے کو ہدایت کر دے کہ ان مسائل کو خود دیکھ لے۔
*ضروری ہدایت*
نوٹ: کم عمر لڑکے لڑکیاں ان مسائل کو نہ پڑھیں۔
*حیض اور استحاضہ کا بیان*
جو ہر مہینے آگے کی راہ سے معمولی خون آتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔
کم سے کم حیض کی مدت 3 دن 3 رات ہے اور زیادہ سے زیادہ 10 دن 10 رات ہے۔
کسی کو 3 رات سے کم خون آیا تو وہ حیض نہیں استحاضہ ہے، کسی بیماری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے۔
اور اگر 10 دن سے زیادہ خون آیا ہے تو جتنے دن زیادہ آیا ہے وہ بھی استحاضہ ہے۔
اگر 3 دن ہو گئے لیکن 3 راتیں نہیں ہوئیں جیسے جمعہ سے خون آیا اور اتوار کی شام مغرب کے بعد بند ہو گیا تب بھی یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ اگر 3 دن یا 3 رات سے ذرا بھی کم ہو تو وہ حیض نہیں جیسے جمعہ کو سورج نکلتے وقت خون آیا اور اتوار کو سورج نکلنے سے ذرا پہلے بند ہو گیا تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
حیض کی مدت کے اندر سرخ زرد سبز خاکی میلا سیاہ جو رنگ آئے سب حیض ہے جب تک گدی سفید نہ دکھائی دے اور جب بالکل سفید رہے جیسی رکھی گئی تھی تو اب حیض سے پاک ہے۔
9 سال سے پہلے اور 55 سال کے بعد کسی کو حیض نہیں آتا اس لیے 9 سال کی چھوٹی لڑکی کو خون آئے وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے۔
اور اگر 55 سال کے بعد کچھ نکلے تو اگر خون خوب سرخ یا سیاہ ہو تو حیض ہے اور اگر زرد یا سبز یا خاکی رنگ ہو تو حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے۔ البتہ اگر اس عورت کو اس عمر سے پہلے بھی زرد یا سبز یا خاکی رنگ آتا ہو تو 55 سال کے بعد بھی یہ رنگ حیض ہی سمجھا جائے گا اور اگر عادت کے خلاف ایسا ہوا ہے تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ مطلب کہ پہلے زرد یا سیاہ خاکی رنگ نہیں آتا تھا 55 سال کے بعد آیا تو حیض نہیں استحاضہ ہے، اگر پہلے بھی آتا تھا تو حیض ہے۔
کسی کو ہمیشہ 3 دن یا 4 دن خون آتا تھا پھر کسی مہینے میں زیادہ آ گیا لیکن 10 دن سے زیادہ نہیں آیا تو وہ سب حیض ہی ہے۔
اور اگر 10 دن سے بھی زیادہ بڑھ گیا تو جتنے دن پہلے سے عادت کے ہیں اتنا تو حیض ہے باقی سب استحاضہ ہے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کو ہمیشہ 3 دن حیض آنے کی عادت ہے لیکن کسی مہینے میں 9 دن یا 10 دن رات خون آیا تو سب حیض ہے۔
اور اگر 10 دن رات سے ایک لمحہ بھی زیادہ خون آیا تو وہی 3 دن حیض کے ہیں اور باقی دنوں کا سب استحاضہ ہے، ان دنوں کی نمازیں قضا پڑھنا واجب ہے۔
ایک عورت ہے جس کی کوئی عادت مقرر نہیں ہے کبھی 4 دن خون آتا ہے کبھی 7 دن اور کبھی 10 دن اسی طرح بدلتا رہتا ہے تو یہ سب حیض ہے۔
ایسی عورت کو اگر کبھی 10 دن رات سے زیادہ خون آئے تو دیکھو کہ اس سے پہلے مہینے میں کتنے دن حیض آیا تھا بس اتنے ہی دن حیض کے ہوں گے باقی سب استحاضہ ہے۔
کسی کو ہمیشہ 4 دن حیض آتا تھا پھر کسی مہینے میں 5 دن خون آیا اس کے بعد دوسرے مہینے میں 15 دن خون آیا تو اس 15 دن میں سے 5 دن حیض کے ہیں اور باقی 10 دن استحاضہ ہے۔ پہلی عادت کا اعتبار نہ کریں گے اور یہی سمجھیں گے عادت بدل گئی ہے اور 5 دن کی عادت ہو گئی ہے۔
کسی لڑکی کو پہلی بار خون آیا تو اگر 10 دن سے کچھ کم آئے تو سب حیض ہے اور اگر 10 دن سے زیادہ آئے تو پورے 10 حیض کے ہیں باقی جتنا زیادہ ہو سب استحاضہ ہے۔
کسی لڑکی کو پہلی بار خون آیا اور کسی طرح بند نہ ہوا کئی مہینے تک برابر آتا رہا تو جس دن سے آیا ہے اس دن سے لے کر 10 دن رات تک حیض ہے اس کے بعد 20 دن رات استحاضہ ہے اور اسی طرح برابر 10 دن رات حیض اور 20 دن رات استحاضہ سمجھا جائے گا۔
2 حیض کے درمیان میں پاک رہنے کی مدت کم سے کم 15 دن ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ سو اگر کسی کو کسی وجہ سے حیض آنا بند ہو جائے تو جتنے مہینے خون نہیں آئے گا پاک ہے۔
اگر کسی کو 3 دن رات خون آیا پھر 15 دن پاک رہی پھر 3 دن رات خون آیا تو 3 دن پہلے کے اور 3 دن جو 15 دن کے بعد ہیں حیض کے ہیں اور بیچ میں 15 دن پاکی کا زمانہ ہے۔
اگر ایک یا دو دن خون آیا پھر 15 دن پاک رہی پھر ایک یا دو دن خون آیا تو بیچ کے 15 دن تو پاکی کا ہی زمانہ ہے، ادھر یا ادھر جو ایک یا دو دن خون آیا ہے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
اگر ایک دن یا کئی دن خون آیا پھر 15 دن سے کم پاک رہی اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے بلکہ یوں سمجھیں گے کہ گویا اول سے آخر تک برابر خون جاری رہا۔ سو جتنے دن حیض آنے کی عادت ہو اتنے دن تو حیض کے ہیں باقی سب استحاضہ ہے۔
مثال اس کی یہ ہے کہ کسی کو ہر مہینے 1 یا 2 یا 3 تاریخ حیض آنے کا معمول ہے پھر کسی مہینے ایسا ہوا کہ پہلی تاریخ کو خون آیا پھر 14 دن پاک رہی پھر ایک دن خون آیا تو ایسا سمجھیں گے جیسے 16 دن برابر خون آیا ہے۔ سو اس میں 3 دن اول کے تو حیض کے ہیں اور باقی 13 دن استحاضہ ہے۔
اگر 4 یا 5 یا 6 تاریخ حیض کی عادت تھی تو یہی تاریخیں حیض کی ہیں اور 3 دن اول کے اور 10 دن بعد کے استحاضہ کے ہیں اور اگر اس کی کوئی عادت نہ ہو پہلی بار خون آیا ہے تو 10 حیض کے ہیں اور 6 دن استحاضہ ہے۔ حمل کے زمانے میں جو خون آئے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے چاہے جتنے دن آئے۔
بچہ پیدا ہونے کے وقت بچہ نکلنے سے پہلے جو خون آئے وہ بھی استحاضہ ہے بلکہ جب تک بچہ آدھے سے زیادہ نہ نکل آئے تب تک جو خون آئے گا اس کو استحاضہ ہی کہیں گے۔
حیض اور استحاضہ کا بیان ماشاء اللہ پورا ہوا کل ان شاء اللہ حیض کے احکام لکھے جائیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔
جو شادی شدہ ہیں وہ سب ان مسائل کو اپنی بیوی تک پہنچائیں اور جتنی لڑکیاں خواتین ہیں سب مسائل کو غور سے پڑھیں اور عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ اور صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین۔
ARABIC TRANSLATION
أحكام الحيض والاستح
*طريقة قراءة المسائل المذكورة أدناه*
إذا كان القارئ رجلاً فلا يقرأ هذه المسائل بنفسه. إما أن يشرحها عن طريق زوجته أو يرشد القارئ أن يطلع على هذه المسائل بنفسه.
*تنبيه مهم*
ملاحظة: الأولاد والبنات صغار السن لا يقرأوا هذه المسائل.
*بيان الحيض والاستحاضة*
الدم الطبيعي الذي يأتي كل شهر من السبيل الأمامي يسمى حيضاً.
أقل مدة الحيض ثلاثة أيام بلياليها وأكثرها عشرة أيام بلياليها.
من جاءها الدم أقل من ثلاث ليال فليس بحيض بل هو استحاضة بسبب مرض.
وإن زاد الدم على عشرة أيام فالأيام الزائدة استحاضة أيضاً.
إذا تمت ثلاثة أيام ولم تتم ثلاث ليال، كما لو جاء الدم يوم الجمعة وانقطع مساء الأحد بعد المغرب فليس هذا بحيض بل استحاضة. وإن نقص عن ثلاثة أيام أو ثلاث ليال ولو قليلاً فليس بحيض، كما لو جاء الدم عند طلوع الشمس يوم الجمعة وانقطع قبل طلوع الشمس يوم الأحد فليس بحيض بل استحاضة.
في مدة الحيض كل لون يظهر أحمر أو أصفر أو أخضر أو ترابي أو أسود فكله حيض حتى تظهر القطنة بيضاء. وإذا بقيت بيضاء تماماً كما وضعت فهي طاهرة من الحيض.
قبل تسع سنوات وبعد خمس وخمسين سنة لا يأتي الحيض، لذلك إذا جاء الدم لبنت صغيرة عمرها تسع سنوات فليس بحيض بل استحاضة.
وإن خرج شيء بعد خمس وخمسين سنة فإن كان الدم أحمر قانياً أو أسود فهو حيض، وإن كان أصفر أو أخضر أو ترابياً فليس بحيض بل استحاضة. إلا إذا كانت المرأة يأتيها اللون الأصفر أو الأخضر أو الترابي قبل هذا العمر فبعد خمس وخمسين يعتبر هذا اللون حيضاً أيضاً. وإن كان خلاف عادتها فليس بحيض بل استحاضة. يعني إن لم يكن يأتيها اللون الأصفر أو الأسود الترابي قبل خمس وخمسين ثم جاء بعدها فليس بحيض بل استحاضة، وإن كان يأتيها قبل ذلك فهو حيض.
من كانت عادتها ثلاثة أيام أو أربعة أيام ثم زاد في شهر لكنه لم يتجاوز عشرة أيام فكله حيض.
وإن زاد على عشرة أيام فما كان من عادتها فهو حيض والباقي استحاضة.
مثاله: من كانت عادتها ثلاثة أيام حيض ثم جاءها في شهر تسعة أيام أو عشرة أيام بلياليها فكله حيض.
وإن زاد الدم على عشرة أيام بلياليها ولو بلحظة فالثلاثة أيام هي الحيض والباقي كله استحاضة، ويجب قضاء صلوات تلك الأيام.
امرأة ليس لها عادة مستقرة يأتيها الدم أحياناً أربعة أيام وأحياناً سبعة أيام وأحياناً عشرة أيام يتغير هكذا فكله حيض.
فإن جاءها الدم أكثر من عشرة أيام بلياليها فتنظر كم كان حيضها في الشهر الذي قبله، فتلك الأيام هي الحيض والباقي استحاضة.
من كانت عادتها أربعة أيام حيض ثم جاءها في شهر خمسة أيام وبعده في الشهر الآخر خمسة عشر يوماً، فمن الخمسة عشر يوماً خمسة أيام حيض وعشرة أيام استحاضة. ولا اعتبار للعادة الأولى ونعتبر أن العادة تغيرت وصارت خمسة أيام.
إذا جاء الدم لبنت أول مرة فإن كان أقل من عشرة أيام فكله حيض، وإن زاد على عشرة أيام فالعشرة كاملة حيض والزائد كله استحاضة.
إذا جاء الدم لبنت أول مرة ولم ينقطع واستمر أشهراً متتالية فمن يوم ابتدائه عشرة أيام بلياليها حيض ثم عشرون يوماً بلياليها استحاضة، وهكذا يستمر عشرة أيام بلياليها حيض وعشرون يوماً بلياليها استحاضة.
أقل مدة الطهر بين الحيضتين خمسة عشر يوماً ولا حد لأكثره. فإذا انقطع الحيض عن امرأة لسبب ما فكل الشهور التي لا يأتيها فيها الدم فهي طاهرة.
إذا جاءها الدم ثلاثة أيام بلياليها ثم طهرت خمسة عشر يوماً ثم جاءها الدم ثلاثة أيام بلياليها، فالثلاثة الأولى والثلاثة بعد الخمسة عشر حيض، والخمسة عشر بينهما زمن طهر.
إذا جاءها الدم يوماً أو يومين ثم طهرت خمسة عشر يوماً ثم جاءها الدم يوماً أو يومين، فالخمسة عشر يوماً زمن طهر، واليوم أو اليومان قبلها أو بعدها ليسا بحيض بل استحاضة.
إذا جاءها الدم يوماً أو أياماً ثم طهرت أقل من خمسة عشر يوماً فلا اعتبار له، بل نعتبر كأن الدم استمر من الأول إلى الآخر. فما كان من عادة حيضها فهو حيض والباقي استحاضة.
مثاله: من كانت عادتها الحيض في اليوم الأول أو الثاني أو الثالث من كل شهر، ثم حصل في شهر أن جاءها الدم في اليوم الأول ثم طهرت أربعة عشر يوماً ثم جاءها الدم يوماً، فنعتبر كأنه جاءها الدم ستة عشر يوماً متصلة. فالثلاثة أيام الأولى حيض والثلاثة عشر الباقية استحاضة.
إذا كانت عادتها في اليوم الرابع أو الخامس أو السادس فهذه التواريخ هي الحيض، والثلاثة أيام الأولى والعشرة الأخيرة استحاضة. وإن لم تكن لها عادة وأول مرة جاءها الدم فالعشرة حيض والستة استحاضة. والدم في زمن الحمل ليس بحيض بل استحاضة مهما بلغت أيامه.
والدم الذي يخرج عند الولادة قبل خروج الولد هو استحاضة أيضاً، بل ما دام لم يخرج أكثر من نصف الولد فكل دم يخرج يسمى استحاضة.
تم بيان الحيض والاستحاضة ما شاء الله، وغداً إن شاء الله تكتب أحكام الحيض إن شاء الله تعالى.
على كل المتزوجين إيصال هذه المسائل إلى زوجاتهم، وعلى جميع النساء قراءة هذه المسائل بتدبر والعمل بها. نسأل الله تعالى أن يرزقنا جميعاً الفهم الصحيح والتوفيق للسير على الطريق المستقيم آمين.
