DARUL UMMAH COMMUNITY

GET NEW POST UPDATES ON WHATSAPP

JOIN WHATSAPP GROUP

100% Free. Sirf quality content. 300+ members already joined

Punishments and Consequences on the Day of Judgment

 Punishments and Consequences on the Day of Judgment  

Echoes Of Rehaan


My friends, when a person speaks with arrogance, Allah Almighty's anger is provoked. Allah Almighty declares: "Pride and Grandeur are My cloak."  


How can anyone else utter such words from his tongue? The meaning of a Hadith is that on the Day of Judgment there will be a person whose height Allah Almighty will make equal to that of an ant. Why? Because in the world he was arrogant and spoke with pride.  


On the Day of Resurrection, Allah Almighty will make him so small that all of creation will trample over him as they pass by, so that his humiliation and disgrace may be evident.  


It comes in a Hadith that whoever spends his life ignoring the commands of Sharia, who kept his eyes closed to the teachings of the Quran and Hadith, Allah Almighty says: We will raise such a person blind on the Day of Judgment.  


Regarding the man who begs from others and acts like a pauper, it comes in a Hadith that on the Day of Judgment Allah Almighty will remove all flesh from his face. Only bones will remain on his face. Why? Because he used to turn to others, greet them, and beg from them. Today the radiance of his face has been taken away. Everyone will recognize him by seeing that he used to ask from others instead of Allah Almighty.  


It comes in a Hadith that a man who has two wives and does not do justice between them, Allah Almighty will raise him on the Day of Judgment like a paralyzed person. People will recognize him from afar as someone who lived a life of injustice.  


Some people's backs will be as huge as a large cauldron. Their backs will be filled with embers that will be burning them, and they will be screaming. Who will these people be? They will be those who sold the religion for a few coins. They are filling their bellies with fire, and on the Day of Judgment Allah Almighty will never speak to them, and for them there will be a severe punishment.  


About the man who illegally seized someone's land in the world, it comes in a Hadith that a piece of land extending down to the seven earths will be lifted and placed on his head on the Day of Judgment. He will stand in that state. The whole world will see that he had illegally occupied someone's land.  


My friends, we barely have the strength to lift even a bucket on our heads. How could we bear the burden of such a massive piece of land? Yet still we sit having seized many acres and many plots of others, and we have made them our property.  


Hazrat Umar bin Aas RA used to often say in his gatherings: "I do not know why the dying do not describe their final moments." When the agony of death overcame him, his son said, "Father, now you describe your condition." He said, "Son, it feels as if my body is on a plank of fire, my breath is coming through the eye of a needle, and Mount Uhud has been placed on my chest."  


Imam Abu Hanifa RH once went to visit Hazrat Umar bin Zar RH during his illness. He asked, "How are you?" He replied, "How is it possible that Allah Almighty would punish us when there is Tawheed in our hearts?" Then, turning to Allah Almighty, he said, "O Lord, forgive the one who is in the condition of magicians." They had said, "We have believed in the Lord."  


It is in Kitab ul Aqaaiq that Hazrat Adam AS was grieved by Iblees because he became the means of his expulsion from Paradise. But he was pleased because Allah Almighty attributed the error to Shaitan. It is said: "Shaitan caused them both to slip."  


Hazrat Ibrahim AS felt grief when he saw the blazing fire, but when he found it to be a means of safety, he was pleased.  


The mother of Hazrat Musa AS was grieved that she had cast her son into the river, but she was pleased when Pharaoh also drowned in the river.  


Hazrat Yaqub AS was grieved when he saw his son's shirt stained with blood, but when Hazrat Yusuf AS sent his shirt, his eyesight was also restored to him.  


The principle that emerges is: the very thing that becomes a cause of grief also becomes a cause of happiness. So whoever remains sorrowful in the world out of fear of Allah Almighty will be forgiven on the Day of Resurrection without reckoning. By Allah Almighty's mercy, happiness will also belong to that person.


URDU TRANSLATION 

میرے دوستو، جب کوئی شخص تکبر سے بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا غصہ بھڑکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: بلندی اور عظمت میری چادر ہے۔  

کوئی اور ایسا بول زبان سے کیسے نکال سکتا ہے؟ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کا قد چیونٹی کے برابر بنا دیں گے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ دنیا میں وہ تکبر کرنے والا تھا، اونچے بولنے والا تھا۔  

روز محشر میں اللہ تعالیٰ اس کو اتنا چھوٹا قد دیں گے تاکہ ساری مخلوق اس کو کچل کر آگے گزرے اور اس کی ذلت اور رسوائی ہو۔  

حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص شریعت کے احکام سے آنکھ بند کر کے زندگی گزارتا رہا، قرآن اور حدیث کی باتوں سے اس نے آنکھ بند رکھی، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ایسے شخص کو ہم قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔  

وہ آدمی جو غیروں سے سوال کرتا ہے، فقیر بنتا ہے، اس کے بارے میں حدیث پاک میں آتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے سب گوشت ختم کر دیں گے۔ چہرے پر صرف ہڈیاں ہی ہڈیاں ہوں گی۔ کیوں؟ یہ اس لیے ہوگا کہ یہ غیر کی طرف جھکتا تھا، اسے سلام کرتا تھا اور اس سے سوال کرتا تھا۔ آج کے دن اس کے چہرے کی رونق ختم کر دی گئی۔ سب اسے دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیروں سے مانگتا تھا۔  

حدیث پاک میں آتا ہے کہ جس آدمی کی دو بیویاں ہوں گی اور وہ ان میں انصاف نہیں کرتا ہوگا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو فالج زدہ آدمی کی طرح کھڑا کرے گا۔ لوگ دور سے ہی پہچان لیں گے کہ یہ ناانصافیوں کی زندگی گزارنے والا بندہ ہے۔  

بعض لوگوں کی پیٹھ بہت بڑی دیگ کے مانند ہوگی۔ ان کی پیٹھوں کے اندر انگارے بھرے ہوں گے اور وہ انگارے ان کو جلا رہے ہوں گے اور یہ چلا رہے ہوں گے۔ یہ لوگ کون ہوں گے؟ یہ وہ لوگ ہوں گے جو دین کو چند پیسوں کی خاطر فروخت کرنے والے ہوں گے یعنی بیچنے والے ہوں گے۔ پس وہ اپنی پیٹھ آگ سے بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے ہرگز کلام نہیں کرے گا اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔  

وہ آدمی جس نے دنیا میں کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوگا، اس کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ سات زمین نیچے تک جتنا زمین کا ٹکڑا بنے گا وہ سارا کا سارا قیامت کے دن اٹھا کر اس کے سر پر رکھا ہوا ہوگا۔ اور وہ اس حال میں کھڑا ہوا ہوگا۔ ساری دنیا دیکھے گی کہ اس نے کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا۔  

میرے دوستو، ہم تو اتنی سی ہمت کے مالک ہیں کہ ہمارے لیے سر پر ایک بالٹی اٹھانا مشکل ہے۔ ہم اتنی بڑی زمین کا بوجھ کیسے اٹھا سکیں گے؟ لیکن پھر بھی ہم کسی دوسرے کی کئی کئی ایکڑ اور کئی کئی مربع پر قبضہ کر کے بیٹھے ہوتے ہیں اور اپنی جائداد بنائی ہوتی ہے۔  

حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی محفلوں میں اکثر کہا کرتے تھے کہ معلوم نہیں کہ مرنے والے اپنی آخری وقت کی کیفیت بیان کیوں نہیں کرتے۔ جب ان پر جانکنی کا عالم طاری ہوا تو بیٹے نے کہا: ابا جان، اب آپ ہی اپنی کیفیت بیان کر دیں۔ آپ نے فرمایا: بیٹا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا جسم آگ کے تختے پر ہے، سوئی کے ناکے سے سانس آ رہی ہے اور احد پہاڑ میرے سینے پر رکھ دیا گیا ہے۔  

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایک دفعہ حضرت عمر بن ذر رحمہ اللہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ پوچھا: کیا حال ہیں؟ فرمایا: کیا ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دے جب کہ ہمارے سینوں میں توحید ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے پروردگار، اس شخص کی مغفرت فرما جو جادوگروں کی حالت پر ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔  

کتاب العقائق میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ابلیس سے غم تو اس بات کا پہنچا تھا کہ وہ جنت سے نکلنے کا ذریعہ بنا۔ مگر خوشی اس بات کی ہوئی کہ خطا کو اللہ تعالیٰ نے شیطان کی طرف منسوب کر دیا۔ فرمایا: شیطان نے ان دونوں کو لغزش میں ڈال دیا۔  

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھڑکتی آگ کو دیکھا تو غم ہوا، لیکن جب اس کو سلامتی کے ساتھ پایا تو خوشی ہوئی۔  

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو غم تھا کہ بیٹے کو دریا میں ڈال دیا، مگر خوشی ہوئی کہ فرعون بھی دریا میں ڈوبا۔  

حضرت یعقوب علیہ السلام نے بیٹے کا کرتا خون آلودہ دیکھا تو غم ملا، لیکن جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قمیص بھیجی تو بینائی بھی انہیں واپس مل گئی۔  

اصول یہ نکلتا ہے: جو چیز غم کا سبب بنے، خوشی کا سبب بھی وہی چیز بنتی ہے۔ پس جو شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے غمزدہ رہے گا، روز محشر میں بلا حساب کتاب کے بخشا جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خوشی بھی اسی شخص کو ہوگی۔

ARABIC TRANSLATION 

يا أصدقائي، عندما يتكلم الإنسان بتكبر يشتد غضب الله تعالى. يقول الله تعالى: الكبرياء والعظمة ردائي.  

كيف يمكن لأحد آخر أن يخرج مثل هذا الكلام من لسانه؟ معنى الحديث الشريف أن في يوم القيامة سيكون هناك رجل يجعل الله تعالى قامته مثل النملة. لماذا؟ لأنه كان متكبراً في الدنيا، متعالياً في كلامه.  

في يوم المحشر سيجعله الله تعالى صغير القامة جداً حتى تدوسه جميع المخلوقات وهي تمر، لتظهر ذلته وهوانه.  

جاء في الحديث الشريف أن من عاش حياته معرضاً عن أحكام الشريعة، وأغمض عينيه عن كلام القرآن والحديث، فإن الله تعالى يقول: مثل هذا الشخص نبعثه يوم القيامة أعمى.  

أما الرجل الذي يسأل الناس ويتظاهر بالفقر، فقد جاء في الحديث الشريف أن الله تعالى يوم القيامة سيزيل كل اللحم من وجهه. لن يبقى في وجهه إلا العظام. لماذا؟ لأنه كان يتذلل لغيره، ويسلم عليه ويسأله. اليوم أُذهبت بهجة وجهه. سيعرفه الجميع بالنظر إليه أنه كان يترك الله تعالى ويسأل غيره.  

جاء في الحديث الشريف أن الرجل الذي يكون له زوجتان ولا يعدل بينهما، سيقيمه الله تعالى يوم القيامة كالمشلول. سيعرفه الناس من بعيد أنه كان يعيش حياة الظلم.  

بعض الناس ستكون ظهورهم كالقدر الكبير. ستكون ظهورهم مملوءة بالجمر، وذلك الجمر يحرقهم وهم يصرخون. من هؤلاء؟ هم الذين باعوا الدين بثمن قليل. إنهم يملؤون بطونهم ناراً، ويوم القيامة لن يكلمهم الله تعالى أبداً ولهم عذاب عظيم.  

أما الرجل الذي اغتصب أرض غيره في الدنيا، فقد جاء في الحديث الشريف أن قطعة الأرض الممتدة إلى سبع أرضين ستحمل كلها يوم القيامة وتوضع على رأسه. وسيقف على هذه الحالة. سترى الدنيا كلها أنه كان قد اغتصب أرض غيره.  

يا أصدقائي، نحن لا نملك من القوة إلا القليل حتى إن حمل دلو على رؤوسنا يصعب علينا. فكيف نستطيع حمل ثقل هذه الأرض الكبيرة؟ ومع ذلك نجلس وقد استولينا على فدادين ومربعات كثيرة لغيرنا ونجعلها ملكاً لنا.  

كان سيدنا عمرو بن العاص رضي الله عنه يقول كثيراً في مجالسه: لا أدري لماذا لا يصف الموتى حالهم في اللحظة الأخيرة. فلما نزل به سكرات الموت قال له ابنه: يا أبت، صف لنا حالك الآن. فقال: يا بني، أشعر كأن جسدي على لوح من نار، وأنفاسي تخرج من ثقب إبرة، وجبل أحد موضوع على صدري.  

زار الإمام أبو حنيفة رحمه الله ذات مرة سيدنا عمر بن ذر رحمه الله في مرضه. فسأله: كيف حالك؟ فقال: كيف يمكن أن يعذبنا الله تعالى وفي صدورنا التوحيد؟ ثم توجه إلى الله تعالى وقال: يا رب، اغفر للذي هو في حال السحرة. لقد قالوا: آمنا برب العالمين.  

جاء في كتاب العقائق أن سيدنا آدم عليه السلام حزن من إبليس لأنه كان سبب خروجه من الجنة. لكنه فرح لأن الله تعالى نسب الخطيئة إلى الشيطان. قال: فأزلهما الشيطان عنها.  

سيدنا إبراهيم عليه السلام حزن عندما رأى النار المشتعلة، لكنه فرح عندما وجدها سلاماً.  

أم سيدنا موسى عليه السلام حزنت لأنها ألقت ابنها في النهر، لكنها فرحت عندما غرق فرعون في النهر أيضاً.  

سيدنا يعقوب عليه السلام حزن عندما رأى قميص ابنه ملطخاً بالدم، لكنه فرح عندما أرسل سيدنا يوسف عليه السلام قميصه فارتد إليه بصره.  

القاعدة المستخلصة هي: الشيء الذي يكون سبباً للحزن، هو نفسه يكون سبباً للفرح. فمن عاش في الدنيا حزيناً من خوف الله تعالى، سيُغفر له يوم المحشر بلا حساب. فبرحمة الله تعالى ستكون الفرحة أيضاً لهذا الشخص.


M-R-S

Darul Ummah Islamic Institute is a dedicated platform spreading the teachings of the Qur’an and Sunnah with sincerity and passion. Through Islamic lectures, reminders, and educational content, the institute is helping people strengthen their connection with Islam and gain beneficial knowledge. With a focus on authentic teachings, good character, and spiritual growth, Darul Ummah Islamic Institute continues to inspire and benefit the Ummah around the world.

Post a Comment

Previous Post Next Post