Beautifying Eyebrows
Women today often pluck the hair around their eyebrows to make them appear thinner and more defined.
The purpose is only beauty and adornment, but this is not considered permissible in Islamic law. The human body is a trust from Allah, and making unnecessary alterations without a genuine religious or natural need is not allowed.
For this reason, the Prophet ﷺ forbade practices such as filing the teeth for beautification, tattooing, and changing Allah’s creation. He also prohibited women from plucking body hair in the manner mentioned in the narrations. Therefore, making the eyebrows into a thin line or increasing the gap between them, as is common in modern fashion, is impermissible. (Mishkat al-Masabih)
Doing so even to please one's husband is not permissible.
However, if the eyebrow hair becomes excessively thick or untidy, trimming it to a reasonable extent is permissible.
Removing Facial Hair
Some women may develop hair or fine facial hair above the lips or on the face. Removing such hair is permissible.
However, it is preferable not to pluck it. Instead, it should be removed using a cream or similar method.
Removing Beard or Moustache Hair
If a woman develops beard or moustache hair, removing it is not only permissible but also recommended.
Nevertheless, these hairs should not be removed by plucking unnecessarily, as it causes needless pain to the body. Using a cream or other suitable method is preferable.
The Prophet ﷺ prohibited unnecessary plucking of body hair.
Therefore, extra hair should not be removed by plucking.
Removing Hair Above the Upper Lip
If a woman has hair above her upper lip, there is no harm in removing it. In fact, removing it is considered preferable and recommended for women. (Fatawa Shami 6:373)
It should be removed with a cream or similar method rather than by plucking.
Removing Hair from the Hands and Feet
It is permissible for a woman to remove hair from her hands and feet, as beautification is allowed for women.
However, this should not be done for showing off, as is common in today's culture.
One should also remember that if Allah has created hair on the body, there is wisdom and benefit in His creation.
Allah has power over all things, and whatever He does is best.
Tattooing Is Not Permissible
Tattooing is prohibited in Islam.
It involves piercing the skin with a needle and inserting dye beneath it to create designs or images. The hadiths contain severe warnings against this practice.
The Prophet ﷺ cursed women who perform tattoos and those who have themselves tattooed. (Mishkat al-Masabih, p. 38)
Therefore, Muslim women should avoid these unlawful practices.
Adding Hair Extensions
Some women add another person's hair to their own to make it appear longer, thicker, or fuller.
This involves deception, and the Prophet ﷺ strongly disapproved of it and cursed those who do so.
Therefore, such practices should be avoided.
The Prophet ﷺ said that Allah's curse is upon the woman who joins another person's hair to her own, the woman who asks for this to be done, the woman who tattoos others, and the woman who gets herself tattooed. (Mishkat al-Masabih; Sahih al-Bukhari; Sahih Muslim)
Hairstyles Resembling a Camel's Hump
It is not permissible for a woman to tie her hair in the style resembling the hump of a camel.
The Prophet ﷺ warned that such women would neither enter Paradise nor even smell its fragrance, though its fragrance can be perceived from a great distance. (Mishkat al-Masabih)
Being deprived of Paradise is indeed a great loss.
Today many people have become so absorbed in fashion that they neglect the teachings of Islam.
My dear sisters, return to your religion. Why become trapped in such fashions? The punishment of Hell is far more severe. If we do not abandon these harmful trends, we cannot expect to be safe from Allah's punishment.
However, if a woman simply ties her hair in a bun, whether high or low, there is no harm in it.
Such a woman is not included in the warning mentioned above. The warning applies to those who adopt such hairstyles for display, vanity, or to attract the attention of non-mahram men and others.
A believing woman should avoid unnecessary beautification that attracts unwanted attention. When a woman goes out adorned for display, she may become the focus of inappropriate gazes.
True beauty is not achieved through creams or powders.
The light of the face comes through the worship of Allah, especially by performing Salah.
URDU TRANSLATION
بھنویں باریک بنانا
آج کل بعض خواتین بھنوؤں کو خوبصورت بنانے کے لیے ان کے اردگرد کے بال نوچ لیتی ہیں، جس سے بھنویں باریک اور خوبصورت لکیر کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
اس کا مقصد صرف حسن و زینت ہوتا ہے، لیکن شریعت کی رو سے ایسا کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ انسان کا جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اور شرعی یا فطری ضرورت کے بغیر اس میں اپنی طرف سے تبدیلی کرنا درست نہیں۔
اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے خوبصورتی کے لیے دانتوں میں فاصلہ پیدا کرنے، جسم پر گدوانے (ٹیٹو بنوانے) اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ساخت میں تبدیلی کرنے سے منع فرمایا ہے، اور عورتوں کو بال نوچنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ لہٰذا بھنوؤں کے بال نوچ کر انہیں باریک لکیر بنا لینا یا دونوں بھنوؤں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا، جیسا کہ آج کل عام رواج ہے، ناجائز ہے۔ (مشکاۃ المصابیح)
شوہر کو خوش کرنے کی نیت سے بھی ایسا کرنا جائز نہیں۔
البتہ اگر بھنوؤں کے بال غیر معمولی طور پر زیادہ بڑھ جائیں تو انہیں مناسب حد تک تراش دینا جائز ہے۔
چہرے کے بال صاف کرنا
بعض خواتین یا لڑکیوں کے چہرے یا اوپر والے ہونٹ پر بال یا روئیں نکل آتے ہیں، تو انہیں صاف کرنا جائز ہے۔
البتہ انہیں نوچ کر نہ نکالا جائے بلکہ کریم، پاؤڈر یا کسی مناسب ذریعے سے صاف کیا جائے۔
چہرے سے داڑھی اور مونچھ کے بال صاف کرنا
اگر کسی عورت کے چہرے پر داڑھی یا مونچھ کے بال آ جائیں تو انہیں صاف کرنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر اور مستحب ہے۔
البتہ ان زائد بالوں کو نوچ کر نکالنا بلاوجہ اپنے جسم کو تکلیف دینا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ انہیں کریم یا کسی مناسب ذریعے سے صاف کیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے جسم کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے۔
لہٰذا زائد بالوں کو نوچنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اوپر والے ہونٹ کے بال صاف کرنا
اگر کسی عورت کے اوپر والے ہونٹ پر بال ہوں تو انہیں صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ عورت کے حق میں انہیں دور کرنا افضل اور مستحب ہے۔ (فتاویٰ شامی 6/373)
البتہ انہیں نوچنے کے بجائے کریم یا کسی مناسب ذریعے سے صاف کیا جائے۔
ہاتھ پاؤں کے بال صاف کرنا
عورت کے لیے ہاتھوں اور پاؤں کے بال صاف کرنا جائز ہے، کیونکہ عورت کے لیے زینت مطلوب ہے۔
لیکن یہ کام دکھاوے اور نمائش کے لیے نہ کیا جائے، جیسا کہ آج کل عام رواج بن چکا ہے۔
یہ بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں بال پیدا کیے ہیں تو یقیناً اس میں ہماری بھلائی اور حکمت ہے۔
اللہ جل شانہٗ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ جو فیصلہ فرماتے ہیں، وہی بہتر ہوتا ہے۔
جسم پر گدوانا جائز نہیں
جسم پر گدوانا (ٹیٹو بنوانا) حرام اور ناجائز ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ سوئی کے ذریعے جلد میں گہرے نشان لگا کر اس میں رنگ بھر دیا جاتا ہے، جس سے جانوروں یا دوسری چیزوں کی تصویریں بنائی جاتی ہیں۔ احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو گدواتی ہیں یا گودتی ہیں۔ (مشکاۃ المصابیح، ص: 38)
اس لیے خواتین کو ان ناجائز اور خلافِ شریعت کاموں سے بچنا لازم ہے۔
بالوں میں دوسرے بال ملانا
بعض خواتین اپنے بال لمبے، گھنے اور بھرے ہوئے دکھانے کے لیے کسی دوسرے انسان کے بال اپنے بالوں میں ملا لیتی ہیں۔
یہ دھوکہ اور فریب ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کو سخت ناپسند فرمایا اور ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
لہٰذا ان ناجائز کاموں سے بچنا ضروری ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس عورت پر جو اپنے یا کسی دوسری عورت کے بالوں میں دوسرے کے بال ملائے، اور اس عورت پر بھی جو ایسا کرنے کا مطالبہ کرے، نیز اس عورت پر بھی جو گودنے کا کام کرے اور جو گدوائے۔ (مشکاۃ، بخاری، مسلم)
اونٹ کے کوہان کی طرح بال باندھنا
عورت کے لیے اپنے بال اونٹ کے کوہان کی طرح باندھنا جائز نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ایسی عورتیں نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو بہت دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ (مشکاۃ المصابیح)
جنت سے محرومی بہت بڑی بدبختی ہے۔
آج کل لوگ فیشن میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ انہیں شریعت کی پروا ہی نہیں رہی۔
اے میری بہنو! دین کی طرف لوٹ آؤ۔ آخر کیوں ایسے فیشن کی آگ میں گرفتار ہو؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ جہنم کی آگ کتنی سخت ہے؟ اگر ہم نے ان فیشنوں کو نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کے غضب سے بھی نہیں بچ سکیں گے۔
البتہ اگر عورت اپنے بالوں کا جوڑا اوپر یا نیچے باندھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
ایسی عورت مذکورہ حدیث کی وعید میں داخل نہیں، کیونکہ یہ وعید ان عورتوں کے لیے ہے جو محض دکھاوے، زینت کی نمائش یا غیر محرم مردوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے انداز اختیار کرتی ہیں۔
مسلمان عورت کو چاہیے کہ فضول بناؤ سنگھار سے بچے، کیونکہ جب عورت نمائش کے لیے سج دھج کر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کی کوشش کرتا ہے اور غیر محرموں کی نظریں اس پر پڑتی ہیں۔
یاد رکھیں! کسی کریم یا پاؤڈر سے حقیقی حسن پیدا نہیں ہوتا۔
اصل نور نماز کی پابندی سے حاصل ہوتا ہے۔
ARABIC TRANSLATION
ترقيق الحواجب
تلجأ بعض النساء في هذا العصر إلى نتف الشعر المحيط بالحاجبين ليبدوا أدقَّ وأجمل.
والمقصود من ذلك مجرد الزينة والتجمّل، إلا أن هذا الفعل غير جائز شرعًا؛ لأن الجسد أمانة من الله تعالى، فلا يجوز تغييره من غير حاجة شرعية أو فطرية.
ولهذا نهى رسول الله ﷺ عن تفليج الأسنان للحسن، والوشم، وتغيير خلق الله تعالى، ولعن النامصة والمتنمصة، ولذلك فإن ترقيق الحاجبين أو توسيع المسافة بينهما كما هو شائع اليوم منهيٌّ عنه شرعًا. (مشكاة المصابيح)
ولا يجوز فعل ذلك حتى لإرضاء الزوج.
أما إذا كثر شعر الحاجبين زيادةً خارجة عن المعتاد، فلا بأس بأخذ الزائد منهما بالقدر المناسب.
إزالة شعر الوجه
قد يظهر لبعض النساء أو الفتيات شعر أو زغب في الوجه أو فوق الشفة العليا، ويجوز إزالة هذا الشعر.
لكن الأولى ألا يُنتف، بل يُزال باستعمال الكريم أو ما يقوم مقامه.
إزالة شعر اللحية والشارب للمرأة
إذا نبت للمرأة شعر اللحية أو الشارب، فإن إزالته جائزة، بل هي أولى وأفضل.
غير أن نتف هذه الشعيرات لا ينبغي لما فيه من إيذاء البدن بلا حاجة، والأفضل إزالتها بوسيلة مناسبة كالكريم ونحوه.
وقد نهى رسول الله ﷺ عن نتف شعر الجسد بغير حق.
لذلك ينبغي تجنب إزالة الشعر الزائد بالنتف.
إزالة شعر الشفة العليا
إذا نبت للمرأة شعر فوق شفتها العليا، فلا حرج في إزالته، بل يستحب لها ذلك. (الفتاوى الشامية 6/373)
لكن يكون ذلك بغير النتف، بل باستعمال الكريم أو الوسائل المناسبة.
إزالة شعر اليدين والرجلين
يجوز للمرأة إزالة شعر اليدين والرجلين؛ لأن التزين مطلوب في حقها.
لكن ينبغي ألا يكون ذلك بقصد التباهي وإظهار الزينة أمام الناس كما هو شائع في هذا الزمان.
ويجب أن نوقن أن ما خلقه الله تعالى في أجسادنا ففيه الحكمة والمصلحة.
والله جل جلاله على كل شيء قدير، وكل ما يقدره فهو الخير والأحسن.
الوشم حرام
الوشم محرم في الإسلام.
وهو غرز الجلد بالإبرة ثم حشوه بالصبغ حتى تظهر رسوم أو صور، وقد جاءت الأحاديث الشريفة بالوعيد الشديد في ذلك.
ولعن رسول الله ﷺ الواشمة والمستوشمة. (مشكاة المصابيح، ص: 38)
فعلى النساء اجتناب هذه الأعمال المحرمة المخالفة للشريعة.
وصل الشعر
تلجأ بعض النساء إلى وصل شعرهن بشعر غيرهن ليبدو أطول أو أكثف.
وهذا من الغش والخداع، ولذلك لعن رسول الله ﷺ الواصلة والمستوصلة.
فينبغي للمسلمات أن يبتعدن عن هذه الأعمال المحرمة.
وقد روى عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله ﷺ قال: «لعن الله الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة». (رواه البخاري ومسلم، ومشكاة المصابيح)
رفع الشعر على هيئة سنام البعير
لا يجوز للمرأة أن تربط شعرها على هيئة سنام البعير.
وقد ورد في الحديث الشريف أن النساء اللاتي يفعلن ذلك لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، مع أن ريحها يوجد من مسيرة بعيدة. (مشكاة المصابيح)
والحرمان من الجنة أعظم الخسران.
وللأسف، انشغل كثير من الناس بموضات العصر حتى غفلوا عن أحكام الشريعة.
فيا أختي المسلمة، عودي إلى دينك، ولا تغتري بزينة الدنيا، فإن نار جهنم أشد وأبقى، ومن لم يتب فقد يعرض نفسه لغضب الله تعالى.
أما إذا جمعت المرأة شعرها وربطته في هيئة معتادة من غير قصد التبرج أو لفت الأنظار، فلا حرج عليها.
فالوعيد الوارد في الحديث إنما هو لمن تفعل ذلك بقصد الزينة المحرمة والتبرج وإظهار نفسها أمام الرجال الأجانب.
فينبغي للمرأة المسلمة أن تجتنب التبرج والزينة التي تجلب أنظار غير المحارم.
واعلمي أن الجمال الحقيقي ليس بكثرة مستحضرات التجميل.
فنور الوجه الحقيقي إنما يكون بالمحافظة على الصلاة وطاعة الله تعالى.

0 Comments