The foundation of Islamic work
Allah has mentioned consultation alongside prayer, which shows its great importance. The Ummah gathers for worship in prayer, and it gathers for da'wah through consultation.
The purpose of consultation is to create concern for the Deen of Allah in the hearts of every believer, regardless of their status. Consultation can become a means of connecting people to the work, and it can also become a cause of separation from it if not conducted properly. Administrative discussions should remain separate.
Sacrifice your personal demands and attend consultation. Allah has made consultation a mercy for you. Seek the opinions of your companions, because when opinions are not taken, responsibilities become burdens. Consultation means asking, thinking, and acting collectively.
In this work, the demand is for dedication and sacrifice, not wealth. Wealth can sometimes become a cause of weakening or ending the work.
A strong conviction in the work is essential. Without conviction, the efforts of da'wah will remain incomplete. The deeds performed within the home are a means through which Allah seeks to purify you.
Education and remembrance of Allah are so effective that Umar (RA) set out with the intention of killing, yet his condition completely changed. This was the impact of learning and guidance within the home.
Without encouragement, organization and discipline cannot remain established. Frequently mention the virtues of striving in the path of Allah so that our hearts and attitudes may change. The help of Allah still exists today, and certainty in this reality becomes a means of steadfastness.
The secret of steadfastness is to engage in this effort for your own reformation. Da'wah is first and foremost for oneself. Warning others about the punishment of Allah is also for one's own benefit and correction.
Concern for self-reformation
The true benefit of da'wah is for the caller himself, just as trade primarily benefits the merchant. Through this work, faith should enter and settle in the heart. This is the foundation and the central link of the effort.
Discussion about faith has become less common in our environment, whereas it should increase in visits, gatherings, meetings, and speeches. Without faith, sincerity cannot exist. The promises of Allah and the rewards He grants are according to the level of faith.
We firmly believe that the six qualities contain the essence of the entire Deen, though we often fail to realize their true depth. Whether it is beliefs, worship, or dealings, the six qualities are like a vast ocean whose depth and breadth become apparent only when one reflects deeply upon them.
Four ways to strengthen certainty — First: Belief in the Oneness of Allah
No act of worship, no deed, and no aspect of Deen can be fully understood without the guidance of Hadith. In our talks, meetings, and discussions, we should frequently speak about the greatness of Allah, His power, His signs, His majesty, and His absolute authority until transformation takes place within our hearts.
This effort is about changing certainty and strengthening conviction. Through it, one attains closeness to Allah. Without true belief in His Oneness, no good deed holds value. Develop such awareness of Allah’s greatness that personal desires become subdued.
If people are invited only toward acts of worship without da'wah, they may eventually become inactive. Without da'wah, the Ummah remains at a loss. Speaking about what seems impossible strengthens conviction, while limiting discussions only to apparent possibilities can weaken it.
Four ways to strengthen certainty — Second: The stories of the Prophets (AS) Third: The stories of the Companions (RA)
Mention the unseen help granted to the Prophets (AS) so that conviction and unity may develop. Speak about the blessings of the Companions rather than focusing on extraordinary events. Excessive focus on extraordinary incidents may create attachment to personalities rather than attachment to Allah.
We have been commanded to bring the same kind of faith that the Companions possessed. To develop such faith, their sacrifices, experiences, and examples should be mentioned frequently. Through their stories, certainty in Allah grows, and the barriers of worldly dependence begin to weaken.
Allah continues to help people of conviction even today. A person's expectations from Allah are according to the strength of his faith. Good deeds are means, but the invitation toward deeds must always be accompanied by reliance upon Allah rather than dependence on worldly causes.
Four ways to strengthen certainty — Fourth: Explaining faith through its signs
Explain faith through its signs so that people become aware of weaknesses in their faith. Create an environment where certainty can be learned and strengthened. Populate the mosques and establish circles of learning and faith. Frequently mention the virtues of maintaining and serving the mosque.
It is not our task to force people to abandon their professions and worldly responsibilities. If people leave their fields merely to join da'wah without proper understanding, the intended benefit of Deen will not be achieved. One who constantly blames Deen for worldly losses will struggle to receive the blessings of Deen.
Give priority to righteous deeds over worldly means. Allah may leave a person dependent upon the very things he relies upon instead of Allah. Strive for excellence in worship and develop a deep connection with Allah.
Da'wah is a means of achieving excellence in worship and strengthening one's relationship with Allah.
مشورے کی اہمیت
اللہ تعالیٰ نے مشورے کو نماز کے ساتھ بیان فرمایا ہے، اس سے مشورے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ امت عبادت پر نماز میں جمع ہوتی ہے اور دعوت پر مشورے میں جمع ہوتی ہے۔
مشورے کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایمان والے کے دل میں، خواہ وہ کسی بھی درجے کا ہو، اللہ کے دین کی فکر پیدا ہو۔ مشورہ کام سے جڑنے کا سبب بھی ہے اور کام سے کٹنے کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس لیے انتظامی مشورہ الگ ہونا چاہیے۔
اپنے تقاضوں کو قربان کرکے مشورے میں آؤ۔ اللہ تعالیٰ نے مشورے کو تمہارے لیے رحمت بنایا ہے۔ ساتھیوں سے رائے لو، کیونکہ جب رائے نہیں لی جاتی تو تقاضے بوجھ بن جاتے ہیں۔ مشورہ اجتماعی طور پر پوچھنے، سوچنے اور عمل کرنے کا نام ہے۔
ہمارے یہاں جان کی قربانی اور محنت کا مطالبہ ہے، مال کا نہیں۔ بعض اوقات مال کام کو ختم کرنے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
کام کا یقین ہونا ضروری ہے۔ اگر کام کا یقین نہ ہو تو دعوت کے اعمال ناقص رہیں گے۔ گھر کے اندر کیے جانے والے اعمال ایسے ذرائع ہیں جن کے ذریعے اللہ رب العزت تمہیں پاک کرنا چاہتے ہیں۔
تعلیم اور ذکر اللہ اتنا مؤثر عمل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قتل کے ارادے سے نکلے تھے، لیکن ان کی کیفیت بدل گئی۔ یہ گھر کی تعلیم اور تربیت کا اثر تھا۔
جس کی ترغیب نہ ہو اس کی ترتیب کبھی قائم نہیں ہو سکتی۔ اللہ کے راستے کے فضائل کثرت سے بیان کرو تاکہ ہماری طبیعتیں اور مزاج بدل جائیں۔ اللہ کی نصرت آج بھی موجود ہے، اور اس پر یقین استقامت کا سبب بنتا ہے۔
استقامت کا راز یہ ہے کہ اس محنت کو اپنے لیے کرو۔ دعوت سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے ہے۔ اللہ کے عذاب سے ڈرانا بھی دراصل اپنی اصلاح کے لیے ہے۔
اپنی اصلاح کی فکر
اصل دعوت داعی کے اپنے لیے ہے، جس طرح تجارت تاجر کے اپنے فائدے کے لیے ہوتی ہے۔ اس کام کے ذریعے ایمان دل میں اترنا چاہیے۔ یہی اس کام کی بنیاد اور اصل کڑی ہے۔
ایمانیات کا تذکرہ ہمارے ماحول میں کم ہو گیا ہے، حالانکہ اسے گشتوں، بیانات اور ملاقاتوں میں زیادہ ہونا چاہیے۔ ایمان کے بغیر اخلاص پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ کے وعدے اور اجر بھی ایمان کے مطابق ملتے ہیں۔
ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ چھ نمبر میں پورا دین موجود ہے، لیکن ہم اس کی حقیقت کو پوری طرح نہیں جانتے۔ عقائد ہوں، عبادات ہوں یا معاملات، چھ نمبر ایک سمندر کی مانند ہیں، جن کی گہرائی میں جانے سے ان کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔
یقین سیکھنے کا پہلا راستہ: اللہ کی توحید
دین کے کسی بھی شعبے، عبادت یا عمل کو حدیث کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہمارے بیانات، ملاقاتوں اور مذاکروں میں اللہ کی قدرت، نشانیوں، عظمت، کبریائی اور وحدانیت کا کثرت سے ذکر ہونا چاہیے، یہاں تک کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جائے۔
یہ یقین بدلنے اور مضبوط کرنے کی محنت ہے۔ اسی کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ توحید کے بغیر کوئی نیکی معتبر نہیں۔ اللہ کی ایسی عظمت پیدا کرو کہ نفس کے تقاضے دب جائیں۔
اگر مجمع کو صرف عبادات اور اعمال پر اٹھایا جائے تو وہ بیٹھ جائے گا۔ دعوت کے بغیر پوری امت خسارے میں ہے۔ ناممکنات کا تذکرہ یقین کو بڑھاتا ہے جبکہ صرف ممکنات کا تذکرہ یقین کو کمزور کر دیتا ہے۔
یقین سیکھنے کا دوسرا راستہ: انبیاء علیہم السلام کے واقعات تیسرا راستہ: صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات
انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہونے والی غیبی مددوں کو بیان کرو تاکہ دلوں میں یقین اور اجتماعیت پیدا ہو۔ صحابۂ کرام کی برکتوں کو بیان کرو، صرف کرامات کو نہیں، کیونکہ کرامات کا زیادہ ذکر شخصیت پرستی کا سبب بن سکتا ہے۔
ہمیں ویسا ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے جیسا صحابۂ کرام کا ایمان تھا۔ اس ایمان کو پیدا کرنے کے لیے ان کے واقعات، قربانیاں اور نمونے بیان کرنا ضروری ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ پر یقین پیدا ہوتا ہے اور اسباب پر حد سے زیادہ اعتماد کم ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ یقین والوں کی آج بھی مدد فرماتے ہیں۔ جیسا ایمان ہوگا ویسا ہی اللہ کے بارے میں گمان ہوگا۔ اعمال ذریعہ ہیں، لیکن اعمال کی دعوت اسباب کے انکار نہیں بلکہ اللہ پر کامل اعتماد کے ساتھ ہونی چاہیے۔
یقین سیکھنے کا چوتھا راستہ: ایمان کو اس کی علامات سے بیان کرنا
ایمان کو اس کی علامات کے ذریعے بیان کرو تاکہ امت کو اپنے ایمان کی کمزوری کا احساس ہو۔ ایسا ماحول بناؤ جہاں یقین سیکھا اور مضبوط کیا جا سکے۔ مسجدوں کو آباد کرو اور تعلیم و ایمان کے حلقے قائم کرو۔ مسجد کی آبادی اور اس کے فضائل کو کثرت سے بیان کرو۔
لوگوں کو ان کے جائز دنیاوی شعبوں سے الگ کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ اگر لوگ اپنے شعبے چھوڑ کر بغیر صحیح سمجھ کے دعوت میں آ جائیں تو مطلوبہ دینی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ جو شخص دنیا کے نقصان کو دین پر ڈالے گا وہ دین کی برکتوں سے محروم رہ جائے گا۔
اعمال کو اسباب پر مقدم رکھو۔ جو شخص اللہ کے بجائے غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے اسی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اپنی عبادت میں کمال پیدا کرو اور اللہ کے ساتھ اپنا تعلق گہرا کرو۔
دعوت عبادت میں کمال پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ARABIC TRANSLATION
أهمية المشورة
لقد قرن الله تعالى المشورة بالصلاة، وفي ذلك دلالة عظيمة على مكانة المشورة وأهميتها. فالأمة تجتمع على العبادة في الصلاة، وتجتمع على الدعوة من خلال المشورة.
إن المقصود من المشورة هو إيجاد الاهتمام بدين الله في قلب كل مؤمن مهما كانت منزلته. فالمشورة سبب للارتباط بالعمل، وقد تكون سببًا للانقطاع عنه إذا لم تُؤدَّ على الوجه الصحيح، أما المشورة الإدارية فلها مجالها الخاص.
ضحّوا برغباتكم الشخصية واحضروا المشورة، فإن الله تعالى جعلها رحمة لكم. واستشيروا إخوانكم، فإن ترك أخذ الآراء يجعل المسؤوليات أثقالًا. والمشورة هي أن نسأل ونفكر ونعمل بصورة جماعية.
إن المطلوب في هذا العمل هو بذل النفس والجهد، لا جمع الأموال، فإن المال قد يكون أحيانًا سببًا في إضعاف العمل أو القضاء عليه.
ولا بد من اليقين بأهمية هذا العمل، فإن فقدان اليقين يجعل أعمال الدعوة ناقصة. والأعمال التي تُؤدَّى داخل البيوت وسائل يطهّر الله بها عباده.
إن التعليم وذكر الله من أعظم الأعمال تأثيرًا، فقد خرج عمر بن الخطاب رضي الله عنه يريد القتل، ثم انقلبت حاله وتغيرت حياته، وكان ذلك من آثار التعليم والتوجيه.
ومن لا يملك الدافع لا يستطيع المحافظة على النظام والترتيب. فأكثروا من ذكر فضائل العمل في سبيل الله حتى تتغير الطباع والقلوب. وإن نصر الله موجود إلى يومنا هذا، واليقين به سبب من أسباب الثبات.
وسر الاستقامة أن يعمل الإنسان لنفسه أولًا. فالدعوة في حقيقتها لإصلاح النفس، والتحذير من عذاب الله إنما يعود نفعه على الداعي نفسه.
الاهتمام بإصلاح النفس
إن المستفيد الأول من الدعوة هو الداعي نفسه، كما أن التاجر ينتفع بتجارته. وأهم ما ينبغي تحقيقه من هذا العمل أن ينزل الإيمان إلى القلب ويستقر فيه، فذلك هو الأساس الذي يقوم عليه كل شيء.
لقد قلّ الحديث عن الإيمان في بيئتنا، مع أنه ينبغي أن يكثر في الجولات واللقاءات والخطب. فالإخلاص لا يتحقق إلا بالإيمان، ووعد الله وثوابه يكونان على قدر الإيمان.
ونحن نؤمن يقينًا أن الصفات الست تشتمل على الدين كله، غير أن كثيرًا من الناس لا يدركون حقيقتها وسعتها. فهي بحر واسع يشمل العقائد والعبادات والمعاملات وغيرها من أبواب الدين.
الطريق الأول لتعلم اليقين: توحيد الله تعالى
لا يمكن فهم أي جانب من جوانب الدين أو العبادة أو العمل إلا في ضوء السنة النبوية. وينبغي أن يكثر الحديث في مجالسنا عن عظمة الله وقدرته وآياته وكبريائه حتى يحدث التغيير الحقيقي في القلوب.
وهذه الجهود إنما هي لتصحيح اليقين وتقويته، ومن خلالها ينال العبد قرب الله تعالى. ولا قيمة لعمل بلا توحيد. فليكن في القلوب من تعظيم الله ما يجعلها تغلب أهواءها وشهواتها.
ولو اقتصر الاهتمام على العبادات دون الدعوة لفتر الناس وضعفوا، فالدعوة ضرورة للأمة كلها. كما أن الحديث عن قدرة الله على ما يظنه الناس مستحيلًا يقوي اليقين، بينما الانشغال بالممكنات وحدها قد يضعفه.
الطريق الثاني لتعلم اليقين: قصص الأنبياء عليهم السلام والطريق الثالث: قصص الصحابة رضي الله عنهم
اذكروا ما أكرم الله به أنبياءه من النصر والتأييد والغوث، فإن ذلك يقوي اليقين ويزيد الثبات. واذكروا بركات الصحابة رضي الله عنهم وسيرهم العطرة، ولا تجعلوا التركيز على الكرامات وحدها حتى لا يتعلق الناس بالأشخاص بدل التعلق بالله.
لقد أُمرنا أن نؤمن كما آمن الصحابة رضي الله عنهم، ولا يتحقق ذلك إلا بمعرفة سيرتهم وتضحياتهم ومواقفهم. فمن خلال قصصهم يترسخ اليقين بالله ويضعف الاعتماد على الأسباب.
وما زال الله تعالى ينصر أهل اليقين إلى يومنا هذا. وعلى قدر الإيمان يكون حسن الظن بالله. والأعمال أسباب، لكن الاعتماد الحقيقي يجب أن يكون على الله وحده.
الطريق الرابع لتعلم اليقين: بيان الإيمان من خلال علاماته
ينبغي بيان علامات الإيمان حتى تدرك الأمة مواضع الضعف في إيمانها. كما يجب إيجاد بيئة يتعلم فيها الناس اليقين ويقوى فيها الإيمان. وأحيوا المساجد وأقيموا فيها حلقات العلم والإيمان، وأكثروا من ذكر فضائل عمارة المساجد.
وليس المقصود أن يترك الناس أعمالهم ومجالاتهم النافعة، بل المطلوب أن يكون الدين حاضرًا في حياتهم كلها. ومن جعل خسائر الدنيا حجة على الدين فلن ينال بركات الدين كما ينبغي.
وقدّموا الأعمال الصالحة على الاعتماد على الأسباب، فإن من تعلق بغير الله وكله الله إلى ما تعلق به. واجتهدوا في إتقان عبادتكم وتعميق صلتكم بالله تعالى.
فالدعوة وسيلة عظيمة لإكمال العبادة وتقوية العلاقة بالله سبحانه وتعالى.

0 Comments