Advertisement

Responsive Advertisement

The Keys To Spiritual Success

 The Keys To Spiritual Success



Knowledge Of Virtues


Knowledge Of Virtues Is Meant To Create Accountability In Actions.


When You Sit Alone, Reflect Upon And Evaluate Your Deeds.


Before Salah, Think About Salah And Discuss Its Virtues.


The Purpose Of Learning Is That The Virtues Of Every Deed Remain Before A Person While Performing It.


Teaching Is An Act Of The Masjid, And Those Outside Are Guided By It.


Do Not Reject Any Branch Of Deen. There Is No Doubt That This Work Is Great, And Through It Every Branch Of Deen Receives Strength.


The Importance Of All Branches Of Deen Should Be Present Within Us.


Awareness Of Allah


Obedience To Allah Comes Through Awareness Of Allah.


While In Solitude And In A State Of Wudu, Engage In Dhikr With Great Care And Importance. True Importance Means Leaving Other Important Matters For It.


Remember Allah With Full Focus And Detachment From Everything Else.


Dhikr Without Awareness Of Allah Leads To Negligence And Laziness.


Perform Dhikr With A Focused Heart, And Let The Tongue Follow The Heart.


Allah Accepts The Deeds Of A Believer In Which The Heart Is Also Present.


Habit Is Not The Foundation; Awareness Is The Foundation. All Sins Result From Negligence, And All Good Deeds Result From Awareness.


Dhikr Is Not Limited To Reciting Tasbihat. Living Life According To The Commands Of Allah And The Way Of The Prophet ﷺ Is Also Dhikr.


Dhikr Means Remembering Allah While Detaching Oneself From Everything Else.


The Greatest Form Of Dhikr Is Salah. The Purpose Of All Worship Is To Glorify Allah. From Salah To The Prescribed Supplications, Everything Is Dhikr.


Practice Awareness Of Allah Through Salah.


Effort Is Being Made To Develop Certain Deeds Within Ourselves, Yet Those Very Deeds Are Often Neglected.


Obedience To Allah Is Achieved Through Awareness Of Allah.


All Deeds Should Be Performed Completely, And Every Moment Of Life Should Become Dhikr.


Giving Everyone Their Due Right


Give Every Person Their Due Right. This Practice Is Learned In The Path Of Allah, And We Must Learn Honoring Others Through Service.


Honor Cannot Be Achieved Without Humility. Pride Has No Connection With Honor; True Honor Comes Through Humility.


What Is Our Status? The Prophet ﷺ Himself Gathered Firewood And Carried It. If The Character Of The Prophet ﷺ Enters Our Lives, That Is The Highest Level Of Honor.


Respecting The Feelings And Nature Of Every Muslim Is True Honor For A Muslim.


The Entire Ummah Must Be Brought Together. In This Path, People Of Different Families, Backgrounds, Colors, And Thoughts Gather For The Sake Of Allah.


The Hardships Of This Path Should Be Regarded As Blessings, And Every Service We Perform Should Be Considered Valuable.


Even Cleaning The Masjid Should Be Taken As A Personal Responsibility.


Actions Should Be Done To Please Allah


One Must Correct And Purify His Intention.


The Test Of Sincerity Appears In The Way People Receive And Welcome You.


Do Not Place Your Hopes In Anyone Besides Allah. Whoever Relies On Others, Allah Leaves Him To Them.


Not Even The Thought Of Showing Off Should Enter The Heart. Just As A Single Drop Of Impurity Spoils A Bucket Of Milk, Showing Off Corrupts Good Deeds.


No Matter How Good A Deed May Be, If The Desire For Anyone Other Than Allah Enters It, The Deed Can Be Ruined.


There Is Punishment For Shirk And Reward For Faith. Just As Faith Will Be Accounted For, Sincerity Will Also Be Accounted For.


Even Those Known For Great Deeds, Generosity, Martyrdom, Or Knowledge Can Lose Their Reward Because Of Showing Off.


URDU TRANSLATION 

فضائل والا علم

فضائل کا علم اعمال میں احتساب پیدا کرنے کے لیے ہے۔


جب تنہائی میں بیٹھو تو اپنے اعمال کا محاسبہ کیا کرو۔


نماز سے پہلے نماز کے بارے میں غور کرو اور اس کے فضائل کا تذکرہ کرو۔


تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ ہر عمل کرتے وقت اس کے فضائل سامنے رہیں۔


تعلیم مسجد کا عمل ہے اور باہر والے اس کے تابع ہیں۔


دین کے کسی شعبے کا انکار مت کرو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام بہت بڑا ہے اور اس کے ذریعے دین کے ہر شعبے کو تقویت ملتی ہے۔


دین کے تمام شعبوں کی اہمیت ہمارے اندر ہونی چاہیے۔


اللہ کا دھیان


اللہ کی اطاعت اللہ کے دھیان سے ہوگی۔


باوضو تنہائیوں میں اہتمام کے ساتھ ذکر کیا کرو۔ اہتمام اسے کہتے ہیں جس کے لیے دوسرے اہم کام چھوڑ دیے جائیں۔


اللہ کو پوری توجہ کے ساتھ یاد کرو۔


اللہ کے دھیان کے بغیر ذکر سستی پیدا کرتا ہے۔


ذکر دل جمعی کے ساتھ کیا کرو اور زبان کو دل کے تابع رکھو۔


اللہ تعالیٰ مومن کا وہی عمل قبول فرماتے ہیں جس میں اس کا دل بھی شریک ہو۔


عادت اصل نہیں، دھیان اصل ہے۔ تمام گناہ غفلت کی وجہ سے اور تمام نیکیاں دھیان کی وجہ سے ہوتی ہیں۔


ذکر صرف تسبیحات کا نام نہیں، بلکہ پوری زندگی اللہ کے حکم اور حضور ﷺ کے طریقے کے مطابق گزارنا بھی ذکر ہے۔


ذکر یہ ہے کہ اللہ کو غیر سے کٹ کر یاد کیا جائے۔


سب سے بڑا ذکر نماز ہے۔ تمام عبادات کا مقصد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ نماز سے لے کر مسنون دعاؤں تک سب ذکر ہے۔


اللہ کے دھیان کی مشق نماز کے ذریعے کرو۔


جن اعمال کو اپنے اندر پیدا کرنے کی محنت ہو رہی ہے، انہی اعمال کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔


اللہ کی اطاعت اللہ کے دھیان سے حاصل ہوتی ہے۔


تمام اعمال مکمل طور پر ادا کرنے ہیں اور پورے وقت کو ذکر بنانا ہے۔


ہر حق والے کو اس کا حق دو


ہر حق والے کو اس کا حق دو۔ اس کی مشق اللہ کے راستے میں ہوگی اور ہمیں خدمت کے ذریعے اکرام کی مشق کرنی ہے۔


اکرام عاجزی کے بغیر حاصل نہیں ہوگا۔ تکبر کا اکرام سے کوئی تعلق نہیں، سارا اکرام عاجزی سے حاصل ہوتا ہے۔


ہماری حیثیت ہی کیا ہے؟ حضور ﷺ جنگل میں لکڑیاں چننے تشریف لے گئے اور خود لکڑیاں اٹھا کر لائے۔ ہمارے اندر حضور ﷺ والے اخلاق آ جائیں، یہی اکرام کی انتہا ہے۔


ہر مسلمان کی طبیعت اور کیفیت کا لحاظ کرنا اکرامِ مسلم ہے۔


ساری امت کو ایک جگہ جمع کرنا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مختلف خاندانوں، مختلف رنگوں اور مختلف خیالات کے لوگ اللہ کے راستے میں جمع ہوتے ہیں۔


اس راستے کی تکلیف کو نعمت سمجھنا اور اپنی حیثیت کے مطابق ہر خدمت کو بڑا سمجھنا چاہیے۔


مسجد کی صفائی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔


اللہ کو راضی کرنے کے لیے عمل ہو


انسان کو اپنی نیت درست اور خالص کرنی چاہیے۔


اخلاص کا امتحان استقبال اور عزت افزائی کے وقت ہوتا ہے۔


اللہ کے سوا کسی اور سے امید نہ رکھو۔ جو غیر اللہ سے امید لگاتا ہے، اللہ اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے۔


ریا کا خیال بھی دل میں نہ آنے دو۔ جیسے ناپاکی کا ایک قطرہ دودھ کی بالٹی کو خراب کر دیتا ہے، اسی طرح ریا اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔


تمہارا عمل کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اگر اس میں غیر اللہ کی طلب آ جائے تو وہ عمل خراب ہو سکتا ہے۔


شرک پر عذاب ہے اور ایمان پر اجر ہے۔ جس طرح ایمان کا حساب لیا جائے گا اسی طرح اخلاص کا بھی حساب لیا جائے گا۔


بڑے بڑے اعمال کرنے والے، سخی، شہید اور عالم بھی ریا کی وجہ سے اپنے اجر سے محروم ہو سکتے ہیں۔


ARABIC TRANSLATION 

العِلْمُ بِالفَضَائِلِ

العِلْمُ بِالفَضَائِلِ وُضِعَ لِإِيجَادِ المُحَاسَبَةِ فِي الأَعْمَالِ.


إِذَا جَلَسْتَ وَحْدَكَ فَحَاسِبْ نَفْسَكَ عَلَى أَعْمَالِكَ.


قَبْلَ الصَّلَاةِ تَفَكَّرْ فِي الصَّلَاةِ وَتَذَاكَرْ فَضَائِلَهَا.


الغَرَضُ مِنَ التَّعْلِيمِ أَنْ تَكُونَ فَضَائِلُ كُلِّ عَمَلٍ حَاضِرَةً أَمَامَكَ عِنْدَ أَدَائِهِ.


التَّعْلِيمُ عَمَلٌ مَسْجِدِيٌّ، وَمَنْ خَارِجَ المَسْجِدِ فَهُوَ تَابِعٌ لَهُ.


لَا تُنْكِرْ أَيَّ شُعْبَةٍ مِنْ شُعَبِ الدِّينِ، فَلَا شَكَّ أَنَّ هَذَا العَمَلَ عَظِيمٌ، وَبِوَاسِطَتِهِ تَتَقَوَّى جَمِيعُ شُعَبِ الدِّينِ.


يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ أَهَمِّيَّةُ جَمِيعِ شُعَبِ الدِّينِ حَاضِرَةً فِي قُلُوبِنَا.


الانْتِبَاهُ إِلَى اللَّهِ


طَاعَةُ اللَّهِ تَكُونُ بِالانْتِبَاهِ إِلَيْهِ.


احْرِصْ عَلَى الذِّكْرِ فِي الخَلَوَاتِ وَأَنْتَ عَلَى وُضُوءٍ بِاهْتِمَامٍ وَعِنَايَةٍ.


اذْكُرِ اللَّهَ بِكُلِّ تَرْكِيزٍ وَإِقْبَالٍ.


الذِّكْرُ بِدُونِ انْتِبَاهٍ إِلَى اللَّهِ يُورِثُ الفُتُورَ وَالغَفْلَةَ.


اذْكُرِ اللَّهَ بِحُضُورِ القَلْبِ، وَاجْعَلِ اللِّسَانَ تَابِعًا لِلْقَلْبِ.


إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ مِنَ المُؤْمِنِ العَمَلَ الَّذِي يَشْتَرِكُ فِيهِ قَلْبُهُ.


لَيْسَتِ العَادَةُ هِيَ الأَصْلَ، بَلِ الانْتِبَاهُ هُوَ الأَصْلُ. فَجَمِيعُ الذُّنُوبِ مِنَ الغَفْلَةِ، وَجَمِيعُ الطَّاعَاتِ مِنَ الانْتِبَاهِ.


لَيْسَ الذِّكْرُ اسْمًا لِلتَّسْبِيحَاتِ فَقَطْ، بَلْ حَيَاةُ الإِنْسَانِ كُلُّهَا عَلَى أَمْرِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ﷺ ذِكْرٌ.


الذِّكْرُ هُوَ أَنْ تَذْكُرَ اللَّهَ مُنْقَطِعًا عَمَّا سِوَاهُ.


أَعْظَمُ الذِّكْرِ الصَّلَاةُ، وَالمَقْصُودُ مِنْ جَمِيعِ العِبَادَاتِ تَنْزِيهُ اللَّهِ وَتَمْجِيدُهُ.


تَدَرَّبْ عَلَى الانْتِبَاهِ إِلَى اللَّهِ مِنْ خِلَالِ الصَّلَاةِ.


إِنَّ الأَعْمَالَ الَّتِي نَسْعَى لِتَحْصِيلِهَا فِي أَنْفُسِنَا نَتْرُكُهَا أَحْيَانًا وَنَنْشَغِلُ بِغَيْرِهَا.


طَاعَةُ اللَّهِ لَا تَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالانْتِبَاهِ إِلَيْهِ.


يَنْبَغِي إِتْمَامُ الأَعْمَالِ كُلِّهَا عَلَى الوَجْهِ الأَكْمَلِ وَجَعْلُ الوَقْتِ كُلِّهِ ذِكْرًا.


إِعْطَاءُ كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ


أَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَتَكُونُ مُمَارَسَةُ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَيْنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ الإِكْرَامَ مِنْ خِلَالِ الخِدْمَةِ.


لَا يُنَالُ الإِكْرَامُ إِلَّا بِالتَّوَاضُعِ، فَلَا عَلَاقَةَ لِلْكِبْرِ بِالإِكْرَامِ.


مَا قِيمَتُنَا وَمَا مَنْزِلَتُنَا؟ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَجْمَعُ الحَطَبَ بِنَفْسِهِ، وَإِنَّ التَّخَلُّقَ بِأَخْلَاقِهِ ﷺ هُوَ غَايَةُ الإِكْرَامِ.


مُرَاعَاةُ أَحْوَالِ المُسْلِمِينَ وَطَبَائِعِهِمْ مِنْ إِكْرَامِ المُسْلِمِ.


يَنْبَغِي جَمْعُ الأُمَّةِ عَلَى الوَحْدَةِ، فَهُنَا يَجْتَمِعُ النَّاسُ عَلَى اخْتِلَافِ أَلْوَانِهِمْ وَأَنْسَابِهِمْ وَأَفْكَارِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.


يَنْبَغِي أَنْ تُعَدَّ مَشَاقُّ هَذَا الطَّرِيقِ نِعَمًا، وَأَنْ يُنْظَرَ إِلَى كُلِّ خِدْمَةٍ بِعَيْنِ التَّعْظِيمِ.


وَيَنْبَغِي أَنْ يَتَحَمَّلَ المَرْءُ مَسْؤُولِيَّةَ نَظَافَةِ المَسْجِدِ أَيْضًا.


لْيَكُنِ العَمَلُ لِرِضَا اللَّهِ


يَنْبَغِي تَصْحِيحُ النِّيَّةِ وَإِخْلَاصُهَا لِلَّهِ.


اخْتِبَارُ الإِخْلَاصِ يَظْهَرُ عِنْدَ الإِقْبَالِ وَالتَّرْحِيبِ مِنَ النَّاسِ.


لَا تَرْجُ أَحَدًا غَيْرَ اللَّهِ، فَمَنْ رَجَا غَيْرَ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ.


لَا يَنْبَغِي أَنْ يَدْخُلَ الرِّيَاءُ إِلَى القَلْبِ، فَإِنَّ أَقَلَّ شَيْءٍ مِنْهُ يُفْسِدُ العَمَلَ.


مَهْمَا كَانَ العَمَلُ صَالِحًا، فَإِنَّ التَّفَاتَ القَلْبِ إِلَى غَيْرِ اللَّهِ يُفْسِدُهُ.


عَلَى الشِّرْكِ عَذَابٌ، وَعَلَى الإِيمَانِ أَجْرٌ، وَكَذَلِكَ الإِخْلَاصُ يُسْأَلُ عَنْهُ كَمَا يُسْأَلُ عَنِ الإِيمَانِ.


قَدْ يُحْرَمُ أَصْحَابُ الأَعْمَالِ العَظِيمَةِ وَالعُلَمَاءُ وَالشُّهَدَاءُ مِنَ الأَجْرِ بِسَبَبِ الرِّيَاءِ.

Post a Comment

0 Comments