Timeless Advice for a Better Life
Looking back at the past is not wrong. In fact, we should revisit it often so that we never forget where we started and how far Allah has brought us. Remembering our beginnings helps us remain humble and grateful.
My father once said that a person should speak about others behind their backs only what they would be willing to say to their faces. It seemed like a simple piece of advice, but I found it very difficult to practice. Yet whenever Allah granted me the ability to live by it, life felt much lighter and easier.
People often speak about good character, yet most judgments begin with appearances.
I have seen those who mistreat or insult their parents face various hardships in this world. If your parents have passed away, seek forgiveness for them and pray for their mercy. If they are alive, seek their forgiveness and honor them, for a life without their blessings can become extremely difficult.
When you constantly remind someone that they are important to you, they may begin to think more highly of themselves while gradually considering you less important.
We are often so emotional that we end relationships in a matter of seconds. Yet if we listened patiently and courageously to the other person, many conflicts would never arise.
In mathematics, if one is taken away from two, one remains. But the principle of love is different. If one is taken away from two hearts joined by love, sometimes nothing remains at all.
Whether people agree or not, there are ultimately two companions who never leave us: ourselves and Allah.
Sometimes it becomes necessary to treat people the way they treat you, so they may realize where they are right and where they are wrong.
An elder once said: True pain is the pain you feel when you see others suffering. Even animals can feel their own pain, but compassion for others is a sign of a noble heart.
Never behave toward others in a way that you yourself would dislike if it were done to you.
The concept of worship is very limited if goodness is confined only to the mosque. For a truly faithful person, the home, workplace, and every aspect of life become places of worship through sincerity and righteous conduct.
Avoid excessive and unnecessary talk. A heart that becomes occupied with everything except the remembrance of Allah gradually hardens, and a hardened heart drifts away from its Creator.
Do not look at the faults of others as though you are their master. Rather, look at them with humility, as one who is aware of his own shortcomings.
People are generally of two kinds: those who are facing trials and hardships, and those who are living in comfort and ease.
When you see someone in difficulty, show compassion and pray for their well-being. When you see someone blessed with comfort, praise Allah and thank Him for His favors.
If people developed the mindset of being happy for the safety and well-being of their brothers and sisters, many disputes, conflicts, and divisions would disappear from the world.
URDU TRANSLATION
جو یہ کہتے ہیں کہ پیچھے مُڑ مُڑ کر ماضی کو نہیں دیکھنا چاہیے، وہ غلط کہتے ہیں۔ ماضی کو دیکھنا چاہیے، بار بار دیکھنا چاہیے، تاکہ انسان اپنی اوقات کو نہ بھولے۔ اسے یاد رہے کہ وہ کہاں سے چلا تھا اور کہاں تک پہنچ گیا ہے۔
والد صاحب کہا کرتے تھے کہ انسان کو کسی کی پیٹھ پیچھے وہی بات کرنی چاہیے جو وہ اس کے منہ پر بھی دہرا سکے۔ بات معمولی سی تھی، لیکن میں نے اس پر عمل کرنا بہت مشکل پایا۔ ہاں، جب کبھی اس پر عمل کرنے کی توفیق ملی تو زندگی بہت ہلکی اور آسان محسوس ہوئی۔
لوگ سیرت اور کردار کا بہت ذکر کرتے ہیں، لیکن بات اکثر شکل و صورت دیکھ کر ہی شروع کرتے ہیں۔
میں نے ماں باپ پر ظلم کرنے والوں اور انہیں گالیاں دینے والوں کو دنیا میں طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہوتے دیکھا ہے۔ اگر والدین کا انتقال ہو چکا ہو تو ان کے لیے استغفار کرو، اور اگر زندہ ہوں تو ان سے معافی مانگو اور ان کی خدمت کرو، ورنہ زندگی جہنم سے بھی بدتر محسوس ہو سکتی ہے۔
جب آپ کسی کو بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ آپ کے لیے بہت اہم ہے، تو وہ اپنے آپ کو زیادہ اہم سمجھنے لگتا ہے اور آپ اس کی نظر میں کم اہم ہوتے جاتے ہیں۔
ہم لوگ اتنے جذباتی ہوتے ہیں کہ ایک لمحے میں رشتے ختم کر دیتے ہیں، حالانکہ اگر تھوڑا حوصلہ اور برداشت کر کے دوسرے کی بات سن لی جائے تو یہ نوبت ہی نہ آئے۔
حساب کا اصول ہے کہ دو میں سے ایک نکالو تو ایک بچتا ہے، مگر محبت کا اصول مختلف ہے۔ یہاں دو میں سے ایک نکل جائے تو کبھی کبھی ایک بھی باقی نہیں رہتا۔
کوئی مانے یا نہ مانے، زندگی میں دو ہی سچے ساتھی ہوتے ہیں: ایک انسان خود اور دوسرا اللہ تعالیٰ۔
کبھی کبھی بعض لوگوں کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے جو وہ آپ کے ساتھ رکھتے ہیں، تاکہ انہیں احساس ہو سکے کہ وہ کہاں درست ہیں اور کہاں غلط۔
بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ اصل درد وہ ہے جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر محسوس ہو۔ اپنا درد تو جانور بھی محسوس کر لیتے ہیں، مگر دوسروں کے لیے درد رکھنا انسانیت کی علامت ہے۔
کبھی بھول کر بھی کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرو جو اگر کوئی تمہارے ساتھ کرے تو تمہیں ناگوار گزرے۔
عبادت کا وہ تصور بہت محدود ہے جس میں نیکی صرف مسجد تک محدود ہو۔ ایک دیندار انسان کے لیے گھر، دفتر اور زندگی کا ہر میدان عبادت گاہ بن جاتا ہے جب وہ اللہ کی رضا کے لیے نیک عمل کرے۔
اللہ رب العزت کے ذکر کے علاوہ فضول اور بے مقصد باتیں زیادہ نہ کیا کرو، کیونکہ اس سے دل سخت ہو جاتے ہیں، اور سخت دل انسان اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے۔
لوگوں کے عیب اس طرح نہ دیکھو جیسے تم ان کے مالک ہو، بلکہ اس طرح دیکھو جیسے تم اپنی کمزوریوں سے واقف ایک عاجز انسان ہو۔
لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو آزمائشوں اور مصیبتوں میں گرفتار ہوتے ہیں، اور دوسرے وہ جو آسائش اور آرام کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
جب کسی پریشان حال کو دیکھو تو اس پر ترس کھاؤ اور اس کے لیے عافیت کی دعا کرو، اور جب کسی خوش حال شخص کو دیکھو تو اللہ رب العزت کی حمد و شکر ادا کرو۔
اگر لوگوں کے دلوں میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کی خیریت اور عافیت پر خوش ہوں، تو دنیا سے جھگڑوں، فساد اور نفرتوں کا بڑا حصہ ختم ہو جائے۔
ARABIC TRANSLATION
من يقول إن الإنسان لا ينبغي له أن يلتفت إلى ماضيه فهو مخطئ، بل ينبغي له أن ينظر إلى ماضيه مرارًا وتكرارًا حتى لا ينسى أصله، ويتذكر من أين بدأ وإلى أين وصل.
كان والدي يقول: لا ينبغي للإنسان أن يتحدث عن أحدٍ في غيبته إلا بما يستطيع أن يقوله له في وجهه. كانت نصيحةً بسيطة، لكنني وجدت العمل بها صعبًا، غير أنني كلما وُفِّقت إلى تطبيقها شعرت بأن الحياة أصبحت أخف وأسهل.
كثير من الناس يتحدثون عن الأخلاق والسيرة الحسنة، لكن أحكامهم تبدأ غالبًا بالنظر إلى المظاهر والأشكال.
لقد رأيت الذين يسيئون إلى والديهم أو يؤذونهم يُبتلون في الدنيا بأنواعٍ من المصائب. فإن كان والداك قد انتقلا إلى رحمة الله فاستغفر لهما، وإن كانا على قيد الحياة فاطلب رضاهما واعمل على برهما، فإن في ذلك خيرًا عظيمًا.
إذا ظللت تُشعر شخصًا بأنه مهم جدًا بالنسبة إليك، فقد يزداد إعجابه بنفسه ويقل اهتمامه بك مع مرور الوقت.
نحن في كثير من الأحيان عاطفيون إلى درجة أننا ننهي العلاقات في لحظات، ولو تحلّينا بقليل من الصبر واستمعنا إلى الطرف الآخر لما وصلنا إلى ذلك.
في الحساب إذا أُخذ واحد من اثنين بقي واحد، أما في المحبة فالأمر مختلف؛ فقد يؤدي فقدان أحد الطرفين إلى ضياع كل شيء.
سواء اعترف الناس بذلك أم لا، فإن للإنسان صاحبين لا يفارقانه: نفسه وربه سبحانه وتعالى.
أحيانًا يضطر الإنسان إلى معاملة بعض الناس بالمثل، حتى يدركوا مواضع صوابهم وخطئهم.
كان بعض الحكماء يقولون: الألم الحقيقي هو أن تتألم لرؤية الآخرين يتألمون، أما ألم الإنسان لنفسه فحتى الحيوانات تشعر به.
لا تعامل أحدًا معاملةً تكره أن تُعامل بها.
إن مفهوم العبادة يكون محدودًا إذا حُصرت في المسجد فقط، فالمؤمن يجعل بيته وعمله وسائر شؤون حياته ميادين للعبادة بطاعته لله وحسن خلقه.
لا تُكثر من الكلام الذي لا فائدة فيه، فإن كثرة اللغو تُقسّي القلوب، والقلب القاسي بعيد عن الله تعالى.
لا تنظر إلى عيوب الناس وكأنك سيدهم أو مالك أمرهم، بل انظر إليها بتواضع من يدرك عيوب نفسه أولًا.
الناس صنفان: صنف يمر بالابتلاءات والمحن، وصنف يعيش في سعةٍ وراحة.
فإذا رأيت مبتلىً فارحمه وادعُ له بالعافية، وإذا رأيت من أنعم الله عليه بالرخاء فاحمد الله واشكره على نعمه.
ولو اعتاد الناس أن يفرحوا بعافية إخوانهم وسلامتهم، لانطفأت كثير من أسباب النزاع والخصام والفساد في الدنيا.

0 Comments