Advertisement

Responsive Advertisement

A Thought-Provoking Story

 A Thought-Provoking Story

A Thought-Provoking Story


Some Islamic books mention a remarkable and thought-provoking story about an incident said to have occurred near Madinah.


A woman passed away, and another woman began washing her body for burial. While washing the deceased, she said to the women around her, “This woman had an unlawful relationship with a certain man.”


The moment these words left her tongue, by the will of Allah, her hand became stuck to the deceased woman’s thigh. No matter how hard she tried, she could not free it.


The deceased’s family urged her to complete the washing so that the funeral prayer and burial could take place before evening. She replied, “I want to leave the deceased, but she is not letting go of me.”


The entire night passed, yet her hand remained attached.


The following day, the families consulted several scholars. One reportedly suggested cutting off the living woman's hand, but her family refused. Another suggested cutting part of the deceased's body, but her family also refused. Three days and three nights passed in this condition. Because of the intense heat, the body began to decompose, and news of the incident spread throughout the surrounding villages.


Finally, they decided to seek the judgment of Imam Malik.


After hearing the matter, Imam Malik asked the woman, “When your hand became attached, did you say anything?”


She replied, “I said that this woman had an unlawful relationship with a certain man.”


He asked, “Did you have four eyewitnesses to support your accusation?”


She answered, “No.”


He then asked, “Did she ever confess this to you herself?”


Again she replied, “No.”


He asked, “Then why did you accuse her?”


She said, “I once saw her carrying a water vessel while passing by that man's house, so I assumed it.”


Imam Malik then referred to the Qur'anic ruling concerning those who accuse chaste women without producing four witnesses. According to the narration, he ordered the prescribed punishment to be carried out.


The story states that after seventy lashes, her hand remained attached. After seventy-five lashes, nothing changed. Even after seventy-nine lashes, it remained attached. But when the eightieth lash was completed, her hand was released on its own.


The lesson of this story is clear: falsely accusing someone of immorality is a grave sin. A Muslim should never make accusations without clear and lawful evidence.


May Allah protect us all from slander, false accusations, and سوء الظن (evil suspicion).


Purifying the Heart


Today, many hearts have become stained by sins. Instead of ignoring our spiritual condition, we should strive to cleanse, illuminate, and reform our hearts through sincere repentance and obedience to Allah.


We look at our faces in the mirror, yet we often fail to notice the stains upon our hearts.


Many people have become so attached to worldly life that they have forgotten death and preparation for the Hereafter.


The call to prayer still echoes from the mosques, but the spiritual impact that once shook hearts has become rare.


Where Are the Righteous Youth?


Where are the young people who used to rise during the last part of the night to worship Allah?


They frequently recited "La ilaha illallah."


Their hearts trembled out of fear and reverence for Allah.


Their hearts overflowed with love for their Lord.


Whenever they recited the Qur'an, tears flowed from their eyes.


They found immense joy and peace in listening to the Qur'an.


When they prostrated before Allah, they wished to remain in sujood because of the sweetness of worship.


Such young people are rarely seen today.


Instead, during the last part of the night, cities are silent as people remain asleep, missing one of the most blessed times for worship.


The Virtue of Tahajjud


Authentic hadith mention that during the last third of the night, Allah calls upon His servants, saying: "Who is asking Me so that I may give him? Who is seeking My forgiveness so that I may forgive him?"


Yet many people sleep through these blessed hours and later complain that their prayers are not answered.


Staying awake late for worldly entertainment has become easy, while waking for Tahajjud has become difficult.


There was once a time when travelers passing through towns at night could hear the recitation of the Qur'an coming from the homes of believers.


We should begin preparing for the Hereafter today, because none of us knows how much time remains in this world. The only certainty is that every soul will one day return to Allah.


URDU TRANSLATION 

ایک عبرتناک واقعہ

بعض دینی کتابوں میں ایک عجیب و عبرت انگیز واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ مدینہ منورہ کے نواح میں ایک عورت کا انتقال ہوگیا۔ ایک دوسری عورت اسے غسل دینے لگی۔ جب غسل دیتے ہوئے اس کا ہاتھ میت کی ران تک پہنچا تو اس نے وہاں موجود چند عورتوں سے کہا: "یہ عورت جس کا آج انتقال ہوا ہے، اس کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔"


یہ الفاظ زبان سے نکلتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی گرفت ہوئی کہ غسل دینے والی عورت کا ہاتھ میت کی ران سے چمٹ گیا۔ وہ جتنا کھینچتی، ہاتھ الگ نہ ہوتا بلکہ ران بھی ساتھ کھنچنے لگتی۔


ادھر میت کے ورثاء جلدی غسل مکمل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے تاکہ جنازہ پڑھ کر تدفین کی جا سکے۔ غسل دینے والی عورت نے کہا: "میں تو میت کو چھوڑنا چاہتی ہوں، مگر میت مجھے نہیں چھوڑ رہی۔"


رات گزر گئی مگر ہاتھ بدستور چمٹا رہا۔


اگلے دن لوگوں نے علماء سے مسئلہ پوچھا۔ ایک عالم نے کہا کہ خاموشی سے اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، مگر اس کے اہل خانہ نے انکار کر دیا۔ پھر دوسرے عالم نے کہا کہ میت کا گوشت کاٹ دیا جائے، مگر میت کے ورثاء نے یہ بھی قبول نہ کیا۔ تین دن اور تین راتیں اسی حالت میں گزر گئیں۔ گرمی کی وجہ سے میت میں بو پیدا ہونے لگی اور یہ خبر آس پاس کے دیہات تک پھیل گئی۔


آخرکار لوگوں نے فیصلہ کیا کہ مدینہ منورہ جا کر حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے رجوع کیا جائے۔


وہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان کیا۔


امام مالک رحمہ اللہ خود وہاں تشریف لائے اور پردے کے پیچھے سے غسل دینے والی عورت سے پوچھا:


"جب تیرا ہاتھ چمٹا تو کیا تو نے کوئی بات کہی تھی؟"


اس نے جواب دیا:


"میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔"


امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:


"کیا تیرے پاس اپنی بات کے ثبوت میں چار عینی گواہ تھے؟"


اس نے کہا:


"نہیں۔"


پھر فرمایا:


"کیا اس عورت نے تیرے سامنے خود اس بات کا اقرار کیا تھا؟"


اس نے جواب دیا:


"نہیں۔"


امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:


"پھر تو نے ایسی تہمت کیوں لگائی؟"


اس نے کہا:


"میں نے اسے ایک مرتبہ پانی کا گھڑا اٹھائے اس شخص کے گھر کے سامنے سے گزرتے دیکھا تھا، اسی وجہ سے گمان کر لیا۔"


یہ سن کر امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے اور چار گواہ پیش نہ کرنے والوں کے لیے اسی (80) کوڑوں کی سزا مقرر فرمائی ہے۔


چنانچہ حکم دیا گیا کہ اس عورت پر حد جاری کی جائے۔


روایت کے مطابق جب ستر کوڑے لگے تو ہاتھ نہ چھوٹا، پچھتر لگے تو بھی نہ چھوٹا، اناسی (79) کوڑے لگے تب بھی ہاتھ جوں کا توں رہا، لیکن جیسے ہی اسیواں کوڑا لگا، اس کا ہاتھ خود بخود میت سے الگ ہوگیا۔


اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی پر بلا دلیل تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہے۔ مسلمان کو اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے اور بغیر ثبوت کسی کی عزت پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو تہمت، بہتان اور بدگمانی سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔


دل کی اصلاح


آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے دل ہی مردہ ہو چکے ہیں۔ ہم نے اپنے دلوں کو گناہوں کے داغوں سے بھر دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ توبہ، ذکرِ الٰہی اور اطاعت کے ذریعے اپنے دلوں کو پاک، روشن اور آباد کریں۔


ہم آئینے میں اپنا چہرہ تو دیکھتے ہیں، مگر اپنے دل کے داغ نہیں دیکھتے۔


دنیا کی محبت نے ہمیں اس قدر غافل کر دیا ہے کہ موت کی یاد بھی کمزور پڑ گئی ہے۔


ہم دوسروں کی کہانیاں تو یاد رکھتے ہیں، مگر اپنی حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔


آج بھی مساجد میں تکبیر کی آوازیں بلند ہوتی ہیں، مگر وہ کیفیت اور اثر کم نظر آتا ہے جو پہلے لوگوں کے دلوں کو ہلا دیا کرتا تھا۔


صالح نوجوان کہاں ہیں؟


آج وہ نوجوان کہاں ہیں جو رات کے آخری پہر اٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے؟


وہ کثرت سے "لا إله إلا الله" کا ورد کرتے تھے۔


ان کے دل اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے لرزتے تھے۔


ان کے سینے اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھرے ہوئے تھے۔


قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔


قرآن سننے میں انہیں بے حد لذت اور سکون محسوس ہوتا تھا۔


جب سجدے میں جاتے تو سر اٹھانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔


آج ایسے نوجوان بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔


رات کے آخری حصے میں اکثر شہر خاموش ہوتے ہیں، لوگ گہری نیند میں ہوتے ہیں، حالانکہ یہی وقت اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا وقت ہے۔


تہجد کی فضیلت


صحیح احادیث میں آیا ہے کہ رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پکارتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے بخش دوں؟


لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ ان قیمتی لمحات میں غفلت کی نیند سوئے رہتے ہیں، پھر دن میں شکوہ کرتے ہیں کہ دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔


دنیاوی مشاغل کے لیے رات دیر تک جاگنا آسان لگتا ہے، مگر تہجد کے لیے بیدار ہونا مشکل محسوس ہوتا ہے۔


ایک زمانہ تھا کہ رات کے آخری پہر گھروں سے قرآن کریم کی تلاوت کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔


ہمیں چاہیے کہ ابھی سے آخرت کی تیاری شروع کر دیں، کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری زندگی میں کتنا وقت باقی ہے۔ اتنا ضرور معلوم ہے کہ ایک دن ہم سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔


ARABIC TRANSLATION 

قصةٌ مؤثرةٌ فيها عبرة

ذُكر في بعض الكتب الإسلامية قصةٌ عجيبةٌ ومؤثرة، أن امرأةً توفيت في ضواحي المدينة المنورة، فجاءت امرأةٌ لتغسيلها.


فلما وصل يد المغسِّلة إلى فخذ الميتة، قالت لمن حولها: "إن هذه المرأة كانت لها علاقةٌ محرمةٌ مع رجلٍ معين."


فما إن تلفظت بهذه الكلمات حتى ابتلاها الله تعالى، فالتصقت يدها بفخذ الميتة، ولم تستطع أن تنزعها مهما حاولت.


وأخذ أهل الميتة يطالبونها بالإسراع في تغسيلها حتى تُصلَّى عليها وتُدفن قبل المساء، فقالت: "أنا أريد أن أتركها، ولكنها لا تتركني."


ومضت الليلة، وبقيت يدها ملتصقةً كما هي.


وفي اليوم التالي استفتى الناس بعض العلماء، فأشار بعضهم بقطع يد المرأة، ورفض أهلها ذلك، وأشار آخرون بقطع شيء من جسد الميتة، فرفض أهل الميتة أيضًا.


ومضت ثلاثة أيامٍ وثلاث ليالٍ على هذه الحال، واشتد الحر، وبدأت رائحة الميتة تظهر، وانتشر خبر الحادثة بين الناس.


فقرروا الذهاب إلى الإمام مالك رحمه الله ليستفتوه في الأمر.


فلما حضر الإمام مالك رحمه الله وسأل المرأة قال لها:


"هل قلتِ شيئًا عندما التصقت يدك؟"


قالت:


"قلتُ إن هذه المرأة كانت على علاقةٍ محرمةٍ برجل."


فقال لها:


"هل كان عندك أربعة شهودٍ يشهدون على ما قلتِ؟"


قالت:


"لا."


قال:


"وهل اعترفت هي بذلك أمامك؟"


قالت:


"لا."


فقال:


"فلماذا قذفتِها بهذه التهمة؟"


قالت:


"إني رأيتها مرةً تمرُّ أمام بيت ذلك الرجل وهي تحمل جرة ماء، فظننت ذلك."


فقال الإمام مالك رحمه الله:


إن الله تعالى حكم في كتابه على من يقذف المحصنات ولا يأتي بأربعة شهداء أن يُجلد ثمانين جلدة.


ثم أمر بإقامة الحد عليها.


وتذكر الرواية أنه لما جُلدت سبعين جلدة لم تنفك يدها، ولا بعد خمسٍ وسبعين، ولا بعد تسعٍ وسبعين، فلما أُتمت ثمانون جلدة انفكت يدها من تلقاء نفسها.


والمقصود من هذه القصة التحذير من قذف الأبرياء ورمي الناس بالتهم بغير بينة، فإن ذلك من أعظم الذنوب.


نسأل الله تعالى أن يحفظ ألسنتنا من البهتان والغيبة وسوء الظن.


إصلاح القلوب


لقد امتلأت قلوب كثيرٍ من الناس بآثار الذنوب والمعاصي، وأصبحت بحاجةٍ إلى التوبة والإنابة إلى الله تعالى.


إننا ننظر إلى وجوهنا في المرايا، ولكننا نغفل عن عيوب قلوبنا.


وانشغل كثيرٌ من الناس بالدنيا حتى نسوا ذكر الموت والاستعداد للآخرة.


ولا تزال تكبيرات المساجد تُسمع، ولكن أثرها في القلوب لم يعد كما كان عند السلف الصالح.


أين شباب الطاعة؟


أين أولئك الشباب الذين كانوا يقومون آخر الليل؟


كانوا يكثرون من قول:


«لا إله إلا الله»


وكانت قلوبهم ترتجف من خشية الله.


وامتلأت صدورهم بمحبة الله تعالى.


وكانوا إذا تلوا القرآن الكريم فاضت أعينهم بالدموع.


وكانوا يجدون لذةً عظيمةً في سماع القرآن.


وكانوا إذا سجدوا لله تعالى طال سجودهم حبًّا وخشوعًا.


أما اليوم، فقد قلَّ وجود أمثال هؤلاء.


وأصبحت المدن في آخر الليل هادئةً، وأكثر الناس نيامٌ، وقد ضيَّعوا أوقاتًا هي من أعظم أوقات الرحمة والبركة.


فضل صلاة التهجد


ثبت في الأحاديث الصحيحة أن الله سبحانه وتعالى ينادي في الثلث الأخير من الليل:


«هل من سائل فأعطيه؟ وهل من مستغفر فأغفر له؟»


ولكن كثيرًا من الناس يقضون هذه الساعات المباركة في النوم، ثم يشكون في النهار أن دعاءهم لا يُستجاب.


لقد أصبح السهر على أمور الدنيا سهلًا، وأما القيام لصلاة التهجد فأصبح ثقيلًا على كثيرٍ من النفوس.


وكان السلف الصالح إذا أقبل آخر الليل، عُمِّرت بيوتهم بتلاوة القرآن الكريم وذكر الله تعالى.


فينبغي لنا أن نبدأ من الآن بالاستعداد للآخرة، فإننا لا نعلم كم بقي من أعمارنا، ولكننا نوقن أن لقاء الله تعالى حق، وأن كل نفسٍ راجعةٌ إليه.

Post a Comment

0 Comments