Advertisement

Responsive Advertisement

Dawat with wisdom

 Dawat with wisdom

Dawat with wisdom


If weakness enters into dawat, weakness will also enter into the effort.


This work will continue with the temperament of a caller towards Allah.


Those engaged in this work should have patience in their nature, so that they bear all hardships and unpleasant situations that come in this path. Patience and endurance are what are tested in this work.


Narrow-mindedness creates sects, not an Ummah. A da'i possesses broad-mindedness.


Dawat is universal, and wisdom comes before words.


There is no wisdom greater than honoring people. Wisdom comes first and good speech comes afterward, because wisdom is what makes people accept the message.


There is no greater way of conveying dawat than wisdom. For this reason, Allah made even the prophets tend sheep.


The requirements of acceptance


Strive to make yourself accepted by Allah. The requirement of acceptance is that our entire lives become an example while carrying out this work.


Hazrat Ji (RA) used to say that the lives of those engaged in this work are collective lives. People will observe your dealings, character, and conduct.


This is Allah’s principle and Allah’s law. Allah will take this work from those who fulfill His standards.


There should be such progress in our dealings and character that we become guides for the religion.


The first question is whether we have become examples in our personal lives, so that Allah may take work from us. This work belongs to Allah, and Allah Himself is the protector of His religion. Allah will entrust this work to those through whom He chooses to safeguard His religion.


Hazrat Ji (RA) used to say that the one whose personal connection with Allah is weak cannot establish a link with Allah. Therefore, one's personal relationship with Allah should be deep and strong.


Allah Himself chooses people for the work of religion. For worldly work, people make the selection, but for religious work, Allah Himself chooses.


Giving importance to the sunnahs


Observing the sunnahs will bring down the help of Allah.


The deeds that earn the pleasure of Allah attract His help. Allah has placed special qualities and blessings within the sunnahs.


We must adopt the sunnahs from three perspectives:


1. The sunnahs of dawat.

2. The sunnahs of worship.

3. The sunnahs of daily life.


The sunnahs of dawat are those efforts that were common among all the prophets. This work should be carried out with the temperament of prophethood and the spirit of the companions.


The sunnahs of worship are that our relationship with Allah should become deep. Strive for excellence in worship. The deeper our connection with Allah, the greater the help we will receive.


The sunnahs of daily life are such that we should not feel at ease without them. It is the sunnahs that distinguish a Muslim from others.


Distinction is achieved through the sunnahs. We will stand apart from others because of the sunnahs.


The difference between us and the companions is that they practiced the sunnahs because they were sunnahs, while we often abandon them for the very same reason, saying, "It is only a sunnah."


Principles of dawat – part 1


What should be the temperament of those engaged in this work? Not everyone should follow his own temperament. Rather, the temperament of prophethood should prevail in this work.


The greatest quality in the temperament of prophethood is gentleness. Therefore, this work is not based on harshness but on mutual consultation and understanding. A da'i should possess gentleness.


All the principles of dawat are based on obedience. This work is advanced through encouragement and motivation.


Reduce violations of principles rather than magnifying them. Teach the principles to companions when mistakes occur.


Our work is based on reminding people. Continue reminding them. This work will be carried out by those who have been forgetful; angels are not going to descend for it.


Do not search for the faults of others. Even if you notice a mistake, do not publicize it. The one who spreads news of another's wrongdoing commits an even greater wrong. Backbiting is a greater sin than adultery.


Spreading news of mistakes and violations causes falsehood to spread.


Focus on sacrifices


Keep your eyes on your own shortcomings and on the sacrifices of your companions. This develops selflessness and strengthens unity.


Concealing the mistakes of others becomes a means of encouragement.


In our effort, we speak about the things that we want to bring into practice.


There are two types of violations in this path:


1. Violations related to the work.

2. Violations related to those doing the work.


If someone wrongs you personally, overlook it. If a mistake is made regarding the work itself, seek forgiveness from Allah.


Neither were the prophets commanded to complain about people, nor did they like others bringing complaints to them.


Pray for the forgiveness of your companions. The Messenger of Allah ﷺ even sought forgiveness for the polytheists.


URDU TRANSLATION

دعوت میں حکمت

اگر دعوت میں کمزوری آ جائے تو محنت میں بھی کمزوری آ جائے گی۔


یہ کام داعیانہ مزاج سے چلے گا۔


اس کام میں کام کرنے والوں کی طبیعتوں میں صبر ہونا چاہیے، تاکہ اس راستے میں آنے والی تمام ناگواریوں پر صبر کریں۔ تحمل اور برداشت اسی چیز کا امتحان ہے۔


تنگ دلی سے فرقے بنتے ہیں، امت نہیں بنتی۔ داعی کے مزاج میں وسعت ہوتی ہے۔


دعوت میں عمومیت ہے اور باتوں سے پہلے حکمت ہے۔


اکرام سے بڑھ کر کوئی حکمت نہیں۔ حکمت پہلے اور اچھی بات بعد میں، کیونکہ حکمت کے ذریعے بات کو قبول کروایا جاتا ہے۔


دعوت پہنچانے کا حکمت سے بڑا کوئی راستہ نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام سے بکریاں تک چروائیں۔


قبولیت کی شرائط


اپنے آپ کو اللہ کے یہاں مقبول بناؤ۔ قبولیت کی شرط یہ ہے کہ ہماری پوری زندگی اس کام کو کرتے ہوئے نمونہ بن جائے۔


حضرت جی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس کام کو کرنے والوں کی زندگی اجتماعی زندگی ہے۔ لوگ تمہارے معاملات، اخلاق اور کردار سب کچھ دیکھیں گے۔


یہ اللہ کا ضابطہ اور اللہ کا قانون ہے۔ اللہ یہ کام انہی سے لے گا جو اللہ کے ضابطوں پر پورے اتریں گے۔


ہمارے معاملات اور اخلاق میں اتنی ترقی ہو کہ ہم دین کے رہبر بن جائیں۔


سب سے پہلا سوال اپنی ذاتی زندگی کے نمونہ بننے کا ہے، تاکہ اللہ ہم سے کام لے۔ کیونکہ کام اللہ کا ہے، اللہ اپنے دین کا محافظ ہے، اور اللہ اپنے دین کی حفاظت کا کام انہی سے لے گا جنہیں وہ اس کے لیے منتخب کرے گا۔


حضرت جی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس کا اپنا ذاتی تعلق اللہ کے ساتھ کمزور ہو، وہ اللہ سے رابطہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے اللہ کے ساتھ ذاتی تعلق گہرا ہونا چاہیے۔


اللہ خود چنتے ہیں۔ دنیا کے کاموں کے لیے دنیا والے چنتے ہیں، لیکن دین کے کام کے لیے اللہ تعالیٰ خود انتخاب فرماتے ہیں۔


سنتوں کا اہتمام


سنتوں کا اہتمام اللہ کی مدد کو نازل کروائے گا۔


جو اعمال اللہ کی رضا والے اعمال ہیں، وہ اللہ کی مدد کو لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سنتوں میں خاص تاثیر رکھی ہے۔


ہمیں تین اعتبار سے سنتوں پر آنا ہے:


1۔ سنتِ دعوت


2۔ سنتِ عبادت


3۔ سنتِ عادت


سنتِ دعوت یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان یہ محنت مشترک رہی ہے۔ اس میں نبوت والا اور صحابہ کرام والا مزاج پیدا ہونا چاہیے۔


سنتِ عبادت یہ ہے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق گہرا ہو۔ اپنی عبادت میں کمال پیدا کرو۔ جتنا ہمارا تعلق اللہ سے گہرا ہوگا، اتنی ہی مدد ملے گی۔


سنتِ عادت یہ ہے کہ ہمیں سنتوں کے بغیر چین نہ آئے۔ مسلمان کو غیروں سے الگ کرنے والی چیز سنت ہی ہے۔


سنتوں سے امتیاز حاصل ہوگا۔ ہم غیروں میں سنتوں کی وجہ سے پہچانے جائیں گے۔


ہمارے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان یہی فرق ہے کہ وہ سنتوں پر اس لیے عمل کرتے تھے کہ وہ سنت تھیں، جبکہ ہم سنتوں کو اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ صرف سنت ہیں۔


دعوت کے اصول


اس کام کو کرنے والوں کا مزاج کیسا ہو؟ ہر آدمی اپنے مزاج سے نہ چلے، بلکہ اس کام میں مزاجِ نبوت چلے گا۔


مزاجِ نبوت میں سب سے بڑی چیز نرمی ہے، اس لیے اس کام میں سختی نہیں بلکہ مشورہ اور خیرخواہی ہے۔ داعی کے مزاج میں نرمی ہونی چاہیے۔


دعوت کے جتنے اصول ہیں وہ اطاعت پر مبنی ہیں۔ یہ کام ترغیب کے ذریعے لیا جائے گا۔


بے اصولیوں کو چھوٹا کیا کرو، بڑا نہ کرو۔ بے اصولیوں پر ساتھیوں کو اصول کی تعلیم دو۔


ہمارے یہاں تذکیر ہے، بس یاد دلاتے رہو۔ یہ کام وہی لوگ کریں گے جو بھولتے چلے آ رہے ہیں، کوئی فرشتے نہیں آئیں گے۔


کسی کی بے اصولی تلاش نہ کرو۔ اگر دیکھ بھی لو تو کسی کو خبر نہ کرو۔ کیونکہ دوسروں کی برائی پھیلانے والا اس سے بھی زیادہ برا کام کرتا ہے۔ غیبت زنا سے بڑا گناہ ہے۔


غلطیوں اور بے اصولیوں کی خبریں دینے سے باطل پھیلتا ہے۔


قربانیوں پر نظر ہو


اپنی کوتاہیوں پر اور ساتھیوں کی قربانیوں پر نظر رکھو۔ اس سے ایثار پیدا ہوگا اور اجتماعیت مضبوط ہوگی۔


بے اصولی کو چھپانا ترغیب کا ذریعہ بنے گا۔


ہمارے یہاں جس چیز کو عمل میں لانا ہوتا ہے، اسی کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔


اس راستے میں دو طرح کی بے اصولیاں ہوتی ہیں:


1۔ کام کے ساتھ بے اصولی


2۔ کام کرنے والوں کے ساتھ بے اصولی


اگر اپنے ساتھ بے اصولی ہو تو درگزر کرو، اور اگر کام کے ساتھ بے اصولی ہو تو استغفار کرو۔


نہ نبی کو شکایت کا حکم ہے اور نہ انبیاء علیہم السلام یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے پاس لوگوں کی شکایتیں لائی جائیں۔


اپنے ساتھیوں کے لیے استغفار کرو۔ حضور ﷺ تو مشرکین کے لیے بھی استغفار فرمایا کرتے تھے۔


ARABIC TRANSLATION 

الدعوة بالحكمة

إذا دخل الضعف في الدعوة دخل الضعف في العمل أيضًا.


هذا العمل يسير بروح الداعية ومزاجه الدعوي.


ينبغي للعاملين في هذا العمل أن يتحلوا بالصبر، فيصبروا على جميع المشقات والمكاره التي تعترضهم في هذا الطريق، فإن التحمل والصبر هما محل الابتلاء والاختبار.


إن ضيق الأفق يُنشئ الفرق، ولا يُنشئ الأمة، أما الداعية فشأنه سعة الصدر.


الدعوة تقوم على الشمول، والحكمة تسبق الكلام.


ولا توجد حكمة أعظم من إكرام الناس، فالحكمة أولًا ثم الكلمة الطيبة، لأن الحكمة هي التي تجعل الناس يقبلون الحق.


ولا طريق أعظم من الحكمة في إيصال الدعوة، ولذلك جعل الله تعالى الأنبياء عليهم السلام يرعون الغنم.


شروط القبول


اسعَ إلى أن تكون مقبولًا عند الله تعالى، فإن من شروط القبول أن تكون حياتنا كلها نموذجًا عمليًا لهذا العمل.


كان حضرة جي رحمه الله يقول: إن حياة العاملين في هذا العمل حياة جماعية، فالناس ينظرون إلى معاملاتكم وأخلاقكم وسلوككم.


هذا هو قانون الله ونظامه، وإن الله تعالى يأخذ هذا العمل ممن يلتزمون بقوانينه وضوابطه.


ينبغي أن ترتقي أخلاقنا ومعاملاتنا حتى نصبح قادةً ومرشدين للدين.


وأول ما يُسأل عنه الإنسان أن يكون قدوة في حياته الشخصية، حتى يستعمله الله في خدمة دينه، لأن العمل عمل الله، والله هو حافظ دينه، وسيجعل حفظ دينه على أيدي من يشاء.


وكان حضرة جي رحمه الله يقول: إن من كان ضعيف الصلة بالله لا يستطيع أن يربط الناس بالله، لذلك يجب أن تكون الصلة بالله قوية وعميقة.


الله تعالى هو الذي يختار، فأعمال الدنيا يختار لها أهل الدنيا، أما أعمال الدين فإن الله تعالى هو الذي يختار لها الرجال.


الاهتمام بالسنن


الاهتمام بالسنن سبب لنزول معونة الله تعالى.


فالأعمال التي يرضاها الله تجلب نصره وتأييده، وقد جعل الله تعالى في السنن بركةً وأثرًا عظيمًا.


ينبغي أن نتمسك بالسنن من ثلاثة جوانب:


1. سنن الدعوة.


2. سنن العبادة.


3. سنن العادة.


أما سنن الدعوة فهي الجهد الذي اشترك فيه جميع الأنبياء عليهم السلام، وينبغي أن يكون فيه خُلُق النبوة وروح الصحابة رضي الله عنهم.


وأما سنن العبادة فهي تعميق الصلة بالله تعالى وإتقان العبادة، فكلما ازدادت صلتنا بالله ازددنا عونًا وتوفيقًا.


وأما سنن العادة فهي أن لا نجد الراحة إلا باتباع السنن، فإن السنن هي التي تميز المسلم عن غيره.


وبالسنن يتحقق التميز، وبها يُعرف المسلم بين الناس.


والفرق بيننا وبين الصحابة رضي الله عنهم أنهم كانوا يعملون بالسنة لأنها سنة، أما نحن فكثيرًا ما نترك السنة لأنها سنة فقط.


أصول الدعوة


كيف ينبغي أن يكون مزاج العاملين في هذا العمل؟


لا ينبغي أن يعمل كل شخص وفق هواه ومزاجه، بل يجب أن يسود في هذا العمل مزاج النبوة.


وأعظم ما في مزاج النبوة الرفق واللين، ولذلك لا يقوم هذا العمل على الشدة، بل على المشاورة والرفق، وينبغي للداعية أن يكون لين الجانب.


جميع أصول الدعوة قائمة على الطاعة والانقياد، وهذا العمل يُؤخذ بالترغيب والتشجيع.


صغّروا المخالفات ولا تعظموها، وعلّموا الإخوة الأصول عند وقوع الأخطاء.


عملنا قائم على التذكير، فاستمروا في التذكير، لأن هذا العمل سيقوم به بشر ينسون ويخطئون، ولن تنزل الملائكة للقيام به.


لا تفتشوا عن أخطاء الناس، وإن رأيتم خطأ فلا تنشروه، فإن نشر أخطاء الآخرين شر عظيم، والغيبة من كبائر الذنوب.


إن نشر الأخبار عن الأخطاء والمخالفات يؤدي إلى انتشار الباطل.


النظر إلى التضحيات


انظروا إلى تقصير أنفسكم وإلى تضحيات إخوانكم، فإن ذلك يولد الإيثار ويقوي روح الجماعة.


وستر المخالفات يكون سببًا للترغيب والتشجيع.


إننا نتحدث عما نريد أن نُدخله في دائرة العمل والتطبيق.


وفي هذا الطريق يوجد نوعان من المخالفات:


1. مخالفات تتعلق بالعمل.


2. مخالفات تتعلق بالعاملين.


فإذا كانت المخالفة متعلقة بحقك الشخصي فاعفُ واصفح، وإذا كانت متعلقة بالعمل فاستغفر الله تعالى.


لم يُؤمر نبي من الأنبياء بكثرة الشكاوى، كما أنهم لا يحبون أن تُنقل إليهم شكاوى الناس.


وأكثروا من الاستغفار لإخوانكم، فإن رسول الله ﷺ كان يدعو بالمغفرة حتى للمشركين.

Post a Comment

0 Comments